اختلاف کا نقصان
Urdu book, p. 43
By Maulana Wahiduddin Khan
اختلاف کانقصان پندرہویں صدی میں عرب تاجر جنوبی ہند کے ساحلی علاقوں کی تجارت پر چھائے ہوئے تھے۔ اس زمانہ میں ہندوستان اور بیرونی دنیا کے درمیان تمام بری اور بحری راستوں پر مسلمانوں کا قبضہ تھا۔ وہ ان کے ذریعہ نہایت کامیاب تجارت کر رہے تھے۔ مگر سولھویں صدی کے آغاز سے تاریخ بدلنا شروع ہوئی۔ واسکوڈی گاما (م ۱۴۱۵۔ ۱۵۶۰) نے یورپ اور ہندوستان کے درمیان بحری راستہ دریافت کیا۔ اس کے بعد پرتگالی تاجروں کے قافلے اس علاقہ میں داخل ہونے لگے۔ دھیرے دھیرے انھوں نے ہندوستان کی بیشتر ساحلی تجارت پر قبضہ کر لیا اور مسلمانوں کو اپنی ہوشیاری سے اس علاقہ کی تجارت سے بے دخل کر دیا۔ اس زمانہ میں ہندوستان کے گرم مصالحے بیرونی ملکوں میں بہت اچھی قیمت پر فروخت ہوتے تھے۔ پرتگالی جہاز یہاں سے سیاہ مرچ، دار چینی، لونگ، جاو تری وغیرہ قیمتی پیدا وار اپنے جہازوں میں بھر بھر کر لے جانے لگے اور مسلمانوں کے پاس صرف ڈلی اور ناریل کی معمولی تجارت رہ گئی۔ مسلمان صرف انھیں چیزوں کی تجارت کر سکتے تھے جن کو پرتگالی لائق اعتنا نہ سمجھتے تھے۔ تمام اہم اور فائدہ بخش چیزوں کی تجارت پر پرتگالیوں نے اپنے قبضہ میں لے رکھی تھی۔ پرتگالیوں نے اپنی ہوشیاری سے ساحلی راجاؤں کو اپنا مطیع بنا کر بندر گاہوں پر قبضہ کر لیا۔ اسی طرح ملاکا، اٹی، دناسری، وغیرہ خشکی کے راستے انھوں نے عربوں کے لئے بند کر دئے۔ حتیٰ کہ ان کے امان اور ان کے اجازت نامہ کے بغیر کوئی اس علاقہ میں بحری سفر نہیں کر سکتا تھا۔ مسلمانوں کی معمولی تجارت بھی پرتگالی جہازوں کے ذریعہ ہوتی تھی مسلمانوں کی تجارتی کامیابیوں کے جلو میں اس علاقہ میں اسلام تیزی سے پھیلنے لگا تھا۔ خصوصاً ساحلی علاقے بہت بڑے پیمانہ پر اسلام کی دعوت و تبلیغ کا مرکز بن گئے تھے۔ عین اس وقت اس علاقہ کی سیاست اور اقتصادیات پر پرتگالیوں کا قبضہ ہو گیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ تمام اسلامی سرگرمیاں ٹھپ ہو گئیں۔ اسلام کی اشاعت کا کام رک گیا۔ ایک تاریخ بنتے بنتے رہ گئی۔ مسلمانوں کے اوپر پرتگالیوں کی فتح کا راز کیا تھا، اس کی سب سے بڑی وجہ یہ تھی کہ مسلمانوں میں نا اتفاقی پھیلی ہوئی تھی۔ جب کہ پرتگالی حد درجہ اتفاق واتحاد کے ساتھ کام کرتے تھے، سیاح زین الدین نے لکھا ہے : ’’ پرتگالی بڑے ہوشیار، فریبی اور اپنی مصلحت کے بڑے ماہر ہیں۔ ضرورت کے وقت اپنے دشمنوں کی خوشامد کرنے میں بھی ان کو عار نہیں ہوتا۔ ان میں بڑا اتحاد ہے۔ وہ اپنے سرداروں کے حکم سے کبھی سرتابی نہیں کرتے۔ اپنے دارالحکومت سے دوری کے باوجود ان میں کبھی اختلاف نہیں ہوتا۔ آج تک یہ سنتے میں نہیں آیا کہ انھوں نے اقتدار کے حصول کے لئے اپنے کسی بڑے آدمی کو قتل کیا ہو۔ یہی وجہ ہے کہ تعداد کی کمی کے با وجود وہ مالا بار وغیرہ کے راجاؤں کو اپنا مطیع بنانے میں کامیاب ہو گئے۔ اس کے برعکس مسلمانوں کا یہ حال ہے کہ ان کی فوج اور ان کے سرداروں میں بہت اختلاف ہے۔ ان کا حصول اقتدار کا جذ بہ اتنا بڑھا ہوا ہے کہ اس کی خاطر وہ باہم ایک دوسرے کو قتل کرنے سے بھی نہیں چوکتے۔ (تاریخ الحضارة العربية از محمد کرد علی شامی)

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader