Urdu book · اتحادِ ملت

اتحاد کیوں نہیں

Urdu book, p. 46

By Maulana Wahiduddin Khan

ہوتے ہیں۔ مگر جب قدرت ان کو ایک دھارے میں ملا دیتی ہے تو ان کا ملنا ایک بڑے دریا کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔ یہی چیز اہل ایمان کی اسلامی کوششوں کے سلسلہ میں بھی مطلوب ہے ۔ ’’اللہ ان لوگوں کو پسند کرتا ہے جو اس کی راہ میں اس طرح مل کر لڑتے ہیں جیسے کہ وہ سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہیں (صف ۴) وہی اسلامی عمل اللہ کے نزدیک اسلامی عمل ہے جس کا رخ اجتماعیت کی طرف ہو۔ جب کہ انفرادی کوششیں اس طرح جاری ہوں کہ بالاخر دہ سب کی سب مل کر ایک دریا بن جائیں۔ اس کے برعکس اگر انفرادی اسلامی کوششیں الگ الگ جھرنوں کی صورت میں بہتی رہیں اور دوسرے سروں کی اسلامی کوششوں سے مل کر ایک بڑا دھار نہ بنیں تو وہ خدا کے نزدیک بے قیمت ہیں۔ اگر لوگ ذاتی محرک کے تحت کام کر رہے ہوں تو ان کا اسلامی عمل انفرادی عمل بن کر رہ جاتا ہے اور اگر وہ خدا کے لئے متحرک ہوئے ہوں تو نا ممکن ہے کہ ان کا عمل صرف اپنی ذات کے گرد گھومے، دوسروں کے ساتھ مل کر بڑا دھار نہ بنے۔ لوہے کے ٹکڑے اسی وقت تک الگ الگ رہتے ہیں جب کہ ان کے درمیان کوئی مقناطیس نہ ہو۔ جب ان کے درمیان ایک مقناطیس آجائے تو لوزاٴ ہٴ مادہ سب مقناطیس کے گرد جڑ کر ایک ہو جاتے ہیں۔ اسی طرح اہل اسلام کی کوششیں اگر حقیقۃً خدا کے لئے ہو رہی ہوں تو خدا کی ذات ایک عظیم مقناطیس بن جاتی ہے جو تمام کوششوں کو ایک نقطہ کے گرد سمیٹ دیتی ہے ۔ اہل اسلام کی کوششوں کا انتشار اس وقت ہوتا ہے جب کہ وہ خدا کے لئے نہ ہو بلکہ اپنی ذات کے لئے ہو۔ اجتماعی کام کے لئے جب کچھ لوگ ساتھ ہوتے ہیں تو طرح طرح کی ناموافق باتیں پیش آتی ہیں۔ کبھی مزاجوں کا اختلاف دل شکنی کا باعث ہوتا ہے۔ کبھی کسی کی تنقید سے خفت اٹھانی پڑتی ہے۔ کبھی ایک شخص کی کمزوری سے دوسرے کو تکلیف یہ پہنچی ہے۔ کبھی ضرورت ہوتی ہے کہ سنانے کے شوق کو دبا کر سننے کے لئے اپنے کو آمادہ کیا جائے۔ کبھی تقاضا ہوتا ہے کہ دوسرے کی صلاحیت کا اعتراف کرتے ہوئے اپنے آپ کو پچھلی سیٹ پر بیٹھنے کے لئے راضی کیا جائے۔ غرض بار بار ایسے مواقع سامنے آتے ہیں جہاں اپنی انفرادیت کو کچلنے کا سوال ہوتا ہے۔ یہی مواقع آدمی کے جذبہ اتحاد کا امتحان ہوتے ہیں۔ کوئی بڑا اسلامی کام صرف وہ لوگ کرتے ہیں جن کے اندر اتنی بلندی ہو کہ وہ مفاد اور مصلحت کے بغیر شرط سکتے ہوں۔ وہ اس وقت بھی اپنے بھائی کی قدر کریں جب کہ اس سے ان کی ذات کو خوشامد کی غذا نہ مل رہی ہو ۔ وہ اپنے بھائی کے اوپر خرچ کریں مگر ان کے اندر اپنے بڑے ہونے کا احساس نہ پیدا ہو۔ وہ اپنے بھائی کی کمزوری کو دیکھیں مگر اس کو نمایاں کرنے کا جذبہ ان کے اندر نہ ابھرے۔ وہ دوسرے کی زبان سے اپنے بارے میں کڑوی بات سنیں مگر ان کے دل میں دوسرے کے لئے نفرت کا جذبہ نہ پیدا ہو۔ دوسرے کی طرف سے ان کے مزاج کے خلاف رویہ ظاہر ہو مگر اس کو وہ دوسرے کے بارے میں رائے قائم کرنے کی بنیاد نہ بنائیں۔ دوسرے کی ذات سے ان کا کوئی مفاد وابستہ نہ ہو پھر بھی وہ خدا کے لئے اس سے محبت کریں ـــ اسی کا نام ’’صبر‘‘ ہے۔ اور اسی قسم کے صبر والے لوگ کوئی بڑا دینی کام کرتے ہیں اور انھیں لوگوں کے ملنے سے وہ چیز وجود میں آتی ہے جس کا نام اسلامی اتحاد ہے۔ اتحاد کے لئے سب سے زیادہ جس چیز کی ضرورت ہے وہ شخصی قربانی ہے۔ جس گردہ کے افراد میں یہ طاقت ہو کہ وہ اپنے شخصی تقاضوں کو اجتماع کی خاطر دبا سکیں، ان میں اتحاد قائم ہو کر رہتا ہے، اور وہی ہیں جو کوئی بڑا کام کرتے ہیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page