Urdu book · اظہارِ دین

خلاصہ کلام

Urdu book, p. 106

By Maulana Wahiduddin Khan

انسان اپنی فطرت کے اعتبار سے، ایک مرکز و وابستگی چاہتا ہے۔ انسان کی اِس فطری طلب کا مرجع صرف ایک ہے، اور وہ اس کا خالق ہے۔ بندے کا خالق سے تعلق قائم ہونا ایسا ہی ہے جیسے بجلی کے بلب کا پاور ہاوس سے تعلق قائم ہونا۔ شرک کی برائی یہ تھی کہ اس نے انسان کی اِس طلب کے لیے اس کو ایک غیر واقعی بدل (false substitute) دے دیا۔ اس بنا پر ایسا ہوا کہ انسان کو اس کی فطری طلب کا مرکز نہیں ملا اور نتیجہ انسان اپنی شخصیت کے اُس ارتقا سے محروم ہو گیا جو اس کے لیے پیدائشی طور پر مقدر تھا۔ جدید الحاد کے دور میں دوبارہ انسان ایک اور اعتبار سے اسی محرومی کا شکار ہو گیا۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ انسان کو علم قلیل دیا گیا ہے۔ انسان کے لیے آزادی بہت اچھی چیز ہے، لیکن انسان اپنی فطری ساخت کے اعتبار سے کامل آزادی کا تحمل نہیں کر سکتا۔ انسان کے لیے حقیقت پسندی یہ ہے کہ وہ اپنی اِس محدودیت (limitation) کو جانے اور مقید آزادی (guided freedom) پر راضی ہو جائے۔ جدید الحاد نے آزادی کو خیر مطلق (summon bonum) قرار دے کر انسان کو اس کی فطرت کے راستے سے ہٹا دیا۔ یہی وجہ ہے کہ بظاہر ہر قسم کی ترقیوں کے باوجود انسان اُس اہم ترین چیز سے محروم ہو گیا جس کو ذہنی سکون (peace of mind) کہا جاتا ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page