Urdu book · اظہارِ دین

خدا کی طرف

Urdu book, p. 13

By Maulana Wahiduddin Khan

خدا کی معرفت کیا ہے۔ خدا اس کائنات کا خالق ہے۔ اُس کی معرفت یہ ہے کہ تخلیق میں خالق کو دریافت (discover) کیا جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ تخلیق اپنے آپ میں خالق کا مکمل تعارف ہے۔ ہمیشہ انسان تخلیق میں خالق کو دیکھتا رہا۔ موجودہ زمانے میں نیچر کے بارے میں سائنس کی دریافتوں نے تعارف کے اس دائرے کو ہزاروں گنا زیادہ حد تک بڑھا دیا ہے۔ یہاں اس سلسلے میں ایک بنیادی پہلو کا ذکر کیا جاتا ہے۔ اس بنیادی پہلو کو سامنے رکھنا بہت ضروری ہے، ورنہ اندیشہ ہے کہ خدا کے بارے میں انسان کا مطالعہ اس یقین کے بجائے کنفیوژن تک پہنچادے، وہ خدا کی طرف سفر کرتے ہوئے کسی غیر خدا کی منزل تک پہنچ جائے۔ موجودہ زمانے میں سائنس کے حوالے سے خدا کے وجود (existence of God) کو ثابت کرنے کے لیے بہت سی کتابیں لکھی گئی ہیں۔ مثلاً: Nature and Science Speaks about God The Evidence of God in an Expanding Universe اللّٰهُ يَتَجَلَّى فِي عَصْرِ العِلْمِ (انگریزی سے ترجمہ) مگر سائنس کے بارے میں یہ بات متفق علیہ ہے کہ سائنس کامل علم کا نام نہیں۔ سائنس اپنی دریافتوں کے باوجود جہاں تک پہنچی ہے یا پہنچ سکتی ہے، وہ صرف یہ ہے کہ وہ کسی بھی موضوع پر صرف جزئی علم دے سکے۔ اس حقیقت کو جے این سلیون (JN Sullivan) نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے: Science gives us but a partial knowledge of reality. حقیقت یہ ہے کہ خدا کی دریافت کا سفر بنیادی طور پر دو مرحلوں میں طے ہوتا ہے۔ پہلا مرحلہ وہ ہے جو عقلی غور وفکر اور سائنسی معلومات کے ذریعے طے ہوتا ہے۔ یہ ذریعہ بلا نہایت اعلیٰ ذریعہ ہے۔ لیکن وہ اپنے آخری درجے میں بھی ایک مسافر حق کو جہاں پہنچاتا ہے، وہ صرف احتمال (probability) ہے، یعنی— امکانی طور پر یہاں ایک خدا کا وجود ہے: Probably there is a God.

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page