Urdu book · اظہارِ دین

اظہارِ دین

Urdu book, p. 263

By Maulana Wahiduddin Khan

اسلام کے ذریعے انجام پائے گا۔ جیسا کہ حدیث میں آیا ہے: إِنَّ الْعُلَمَاءَ وَرَثَةَ الْأَنْبِيَاءِ (سنن ابو داؤد، حدیث نمبر 3641)۔ یعنی، امت محمدی کے علما نبیوں کے وارث ہیں۔ دعوت کے پہلے دور میں تبیین حق کا کام جن پیغمبروں نے انجام دیا، انھوں نے اپنے کام کے ساتھ یہ اعلان بھی کیا کہ میں خدا کا پیغمبر ہوں: إِنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكُمْ (7:158)۔ اس اعلان کا حق انھیں اس لیے تھا کہ فرشتہ جبرئیل کے ذریعے انھیں براہِ راست طور پر یہ علم دیا گیا تھا۔ لیکن بعد کے دور میں جو عالم، یا علما کا جو گروہ تبیین حق کے کام کو انجام دے، اس کو مذکورہ قسم کے پیغمبرانہ اعلان یا دعویٰ (claim) کے ساتھ اپنے کام کا آغاز کرنے کا حق نہیں۔ بعد کے زمانے میں تبیین حق کا کام کرنے والے علما کی شناخت ان کے ذاتی اعلان کے ذریعے نہ ہوگی، بلکہ ان کے کام کے ذریعے ہوگی، یعنی جو علما بعد کے دور میں ظاہر ہونے والی آیات فطرت (signs of nature) کا گہرا علم حاصل کریں اور ان کو دعوت حق کی حمایت میں درست طور پر اور مؤثر طور پر استعمال کریں، وہ اس آیت میں کی گئی پیشین گوئی کا مصداق ٹھہریں گے۔ ایسے علما کو صرف ان کے کام کو دیکھ کر پہچانا جا سکتا ہے، نہ کہ ان کے اعلان کے ذریعے ۔ ایک یادگار دن 29 فروری 1955 میری زندگی کا وہ دن تھا جس کو میں اپنے لیے ایک بر یک تھرو (break through) سے تعبیر کرتا ہوں۔ اُس دن لکھنؤ کے امین الدولہ پارک میں جماعت اسلامی ہند کے زیر اہتمام ایک عمومی اجتماع ہوا۔ اس موقع پر اسلام کے عقلی اثبات پر راقم الحروف کی ایک تقریر ہوئی۔ بعد کو جب اعلان کیا گیا کہ یہ تقریر چھپی ہوئی صورت میں یہاں بک اسٹال پر موجود ہے، تو لوگوں کا ہجوم اس کو لینے کے لیے بک اسٹال پر ٹوٹ پڑا۔ تقریر کے تمام مطبوعہ نسخے اُسی وقت فروخت ہو گئے۔ یہ تقریر پمفلٹ کی صورت میں شائع ہوئی ۔ اردو میں اس کا نام تھا ”نئے عہد کے دروازے پر “، ہندی میں ”نو یُگ کے پروش دوار پر “ اور انگریزی میں : On the Threshold of A New Era

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page