Urdu book · اظہارِ دین

اظہارِ دین

Urdu book, p. 315

By Maulana Wahiduddin Khan

اسی طرح اسلام میں اجتماعی نظام کو شوری (42:38) کے تابع کیا گیا تھا، یعنی کسی خارجی معیار کے بجائے لوگوں کی عمومی رائے کی بنیاد پر اجتماعی نظام کا فیصلہ کرنا۔ لیکن بعد کے زمانے میں قدیم خاندانی حکمرانی (dynasty) کا طریقہ واپس آگیا۔ شخصی حکمرانی کا یہ ذہن بعد کے زمانے کے مسلمانوں پر اتنا زیادہ غالب ہوا کہ اگر کسی مسلم ملک میں بظاہر جمہوریت کو اختیار کیا گیا تو وہ بھی عملاً آمریت (dictatorship) بن کر رہ گئی۔ اسی طرح اسلام میں قدیم تصور کے برعکس، مذہبی آزادی کو اختیار کیا گیا، لیکن چند نسلوں کے بعد عملاً اس کا بھی خاتمہ ہو گیا۔ اس کے مظاہر آج بھی مسلمانوں کے اندر مختلف صورتوں میں دیکھے جاسکتے ہیں۔ مثلاً فرقہ وارانہ تشدد، تکفیر کے فتوے، مرتد اور شاتم رسول کے لیے سزائے قتل، وغیرہ۔ اس قسم کے تمام مظاہر بلاشبہ قدیم زمانے کے مذہبی جبر کی نئی صورتیں ہیں۔ متوازی عمل امت مسلمہ کے بعد کے دور میں یہ تمام خرابیاں اس لیے پیدا ہوئیں کہ اسلام کی انقلابی اصلاحات کے حق میں فکری بنیاد موجود نہ تھی۔ اسلام نے مذہب کو دوبارہ اس کی اصل خدائی صورت میں زندہ کیا، لیکن زمانی عامل (age factor) ان اصلاحات کے موافق نہ تھا۔ قانونِ فطرت کے مطابق، فکری بنیاد اچانک وجود میں نہیں آتی، بلکہ وہ لمبے تدرجی عمل کے بعد وجود میں آتی ہے۔ یہ نہایت مشکل منصوبہ ہے، کیوں کہ انسانی آزادی کو باقی رکھتے ہوئے اس کو وجود میں لانا پڑتا ہے۔ اس لیے اللہ نے اس منصوبے کو ظہور میں لانے کے لیے تاریخ میں ایک متوازی عمل (parallel process) جاری کیا۔ فکری بنیاد کو ظہور میں لانے کا یہ متوازی عمل تقریباً ہزار سال تک جاری رہا، یہاں تک کہ وہ بیسویں صدی عیسوی میں اپنی تکمیل تک پہنچا۔ اس عمل کا آغاز پیغمبر اور اُن کے اتباع (followers) نے کیا اور آخرکار اس کی تکمیل ہزار سال بعد اہل مغرب کے ذریعے انجام پائی۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page