Urdu book · اظہارِ دین

کائناتى معنویت کی توجیہ

Urdu book, p. 41

By Maulana Wahiduddin Khan

جدید الحاد۔ ایک تجزیہ فکری اعتبار سے انسان کی تاریخ کو دو بڑے دوروں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے ۔ قبل سائنس دور، اور بعد سائنس دور۔ قبل سائنس دور میں فکری اعتبار سے، مذہب انسان کے لیے رجحان ساز بنا ہوا تھا۔ ماڈرن سائنس کے ظہور کے بعد یہ صورت حال بدل گئی۔ اب سائنس کو عمومی طور پر رجحان ساز (trendsetter) کا درجہ حاصل ہو گیا۔ سائنس بذات خود نہ مذہب کے موافق ہے اور نہ مذہب کے خلاف، لیکن بعض وجوہ سے اس کا یہ عملی نتیجہ نکلا کہ موجودہ زمانے میں تقریباً تمام فکری معاملات میں الحادی نظریہ غالب آ گیا۔ ایسا کیوں کر ہوا، یہاں اس کا ایک جائزہ پیش کیا جا رہا ہے۔ موجودہ سیارہ ارض پر انسان ہزاروں سال سے رہ رہا ہے۔ وہ روزانہ بہت سی چیزوں کو ہوتے ہوئے دیکھتا ہے۔ مثلاً سورج کا نکلنا، بارش کا برسنا اور ہواؤں کا چلنا، وغیرہ۔ روایتی طور پر انسان یہ سمجھتا تھا کہ یہ سب کچھ براہ راست طور پر خدا کی طرف سے کیا جا رہا ہے۔ یہ عقیدہ انسان کے لیے ایک مسلمہ یا ایک بدیہی صداقت (axiom) بن چکا تھا۔ موحد انسان اور مشرک انسان، دونوں کسی نہ کسی طور پر اس کو بطور ایک مسلمہ حقیقت کے مانتے تھے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ خالق (مسبب) اور نتیجے کے درمیان کسی سبب (cause) کا تصور فکری یا عملی طور پر موجود نہ تھا۔ جدید سائنس کے ظہور کے بعد یہ معلوم ہوا کہ ہر نتیجے سے پہلے بظاہر اس کا ایک مادی سبب (material cause) موجود ہے۔ مثال کے طور پر جدید سائنس کا بانی سر آئزک نیوٹن (وفات 1727ء) اپنے باغ میں بیٹھا ہوا تھا۔ اس کے سامنے سیب کا ایک درخت تھا۔ درخت سے ایک سیب ٹوٹ کر نیچے گرا۔ نیوٹن سوچنے لگا کہ پھل درخت سے ٹوٹ کر نیچے کیوں آیا، وہ اوپر کی طرف کیوں نہیں چلا گیا۔ آخر کار اُس نے دریافت کیا کہ ہماری زمین میں قوت کشش (gravitational pull) ہے، اس بنا پر ایسا ہوتا ہے کہ چیزیں اوپر سے نیچے کی طرف آتی ہیں، وہ نیچے سے اوپر کی طرف نہیں جاتیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page