اظہارِ دین
Urdu book, p. 445
By Maulana Wahiduddin Khan
کے لیے اللہ تعالیٰ نے پیغمبر بھیجے۔ یہ پیغمبر لوگوں کی اپنی زبان میں صراطِ مستقیم کی وضاحت کرتے رہے۔ یہ پیغمبر جو کچھ کہتے تھے، وہ اللہ کی وحی سے کہتے تھے۔ تمام پیغمبروں کا ایک ہی مشترک اصول تھا_ نصح و خیر خواہی، یعنی اپنے مدعو کی یک طرفہ طور پر خیر خواہی، مدعو کی طرف سے پیش آنے والی کسی بھی زیادتی پر رد عمل کا طریقہ اختیار کیے بغیر مثبت انداز میں اپنا پیغام دیتے رہنا۔ خدا اور فرشتوں کا مکالمہ آدم کی تخلیق کے وقت خدا اور فرشتوں کے درمیان ایک مکالمہ ہوا۔ اس سلسلے میں قرآن کی آیتوں کا ترجمہ یہ ہے: ”اور جب تیرے رب نے فرشتوں سے کہا کہ میں زمین میں ایک خلیفہ بنانے والا ہوں۔ فرشتوں نے کہا: کیا تو زمین میں ایسے لوگوں کو بسائے گا جو اُس میں فساد برپا کریں اور خون بہائیں، اور ہم تیری حمد کرتے ہیں اور تیری پاکی بیان کرتے ہیں۔ اللہ نے کہا: میں جانتا ہوں، جو تم نہیں جانتے۔ اور اللہ نے سکھائے آدم کو سارے نام، پھر اُن کو فرشتوں کے سامنے پیش کیا اور کہا کہ اگر تم سچے ہو تو مجھے اُن لوگوں کے نام بتاؤ۔ فرشتوں نے کہا کہ تو پاک ہے۔ ہم تو وہی جانتے ہیں جو تو نے ہم کو بتایا۔ بے شک، تو ہی علم والا اور حکمت والا ہے۔“ (2:30-32) یہاں یہ سوال ہے کہ وہ کیا بات تھی جس پر فرشتوں کو اشکال پیدا ہوا، اور بعد کو کیا چیز اُن کے علم میں آئی جس کے بعد اُن کا اشکال دور ہوگیا۔ اصل یہ ہے کہ ابتدا میں فرشتوں نے آدم کی نسل کو اس کے پورے مجموعہ انسانیت کے اعتبار سے لیا۔ اُن کو نظر آیا کہ جس طرح اختیار پا کر جنات کا گروہ سرکش بن گیا، اس طرح اختیار پانے کے بعد انسانی نسل بھی مجموعی طور پر سرکش بن جائے گی۔ مگر اللہ تعالیٰ نے ایک مظاہرے کے ذریعے انسانی نسل کے منتخب افراد کو فرشتوں کے سامنے پیش کیا اور آدم نے ان منتخب افراد کا تعارف کرایا۔ اُس وقت فرشتوں کو اندازہ ہوا کہ اگرچہ مجموعہ کے اعتبار سے انسانی نسل میں فساد آ جائے گا، لیکن عمومی فساد کے باوجود ہر زمانے میں ایسے افراد پیدا ہوں گے جو فساد سے خالی ہوں اور اصلاح کے راستے پر چلنے والے ہوں۔ نسلِ انسانی کے اُنھیں منتخب افراد کو قرآن میں انبیاء اور صدیقین اور شہدا اور صالحین (4:69) کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader