Urdu book · اظہارِ دین

اظہارِ دین

Urdu book, p. 447

By Maulana Wahiduddin Khan

کہا جاتا ہے کہ اس طوفان کے بعد حضرت نوح کے تین بیٹے زندہ بچے جن کا نام: حام، سام، یافث تھا۔ اُنھیں تین بیٹوں سے بعد کی انسانی نسل چلی اور پھر وہ دھیرے دھیرے پوری سطح ارض پر پھیل گئی۔ جب انسانی نسل زمین کے مختلف حصوں میں آباد ہوئی تو ہر جگہ اللہ تعالیٰ نے اُنھیں میں سے کسی فرد کو پیغمبر بنایا جس نے اپنی قوم کو خدائی صداقت کا پیغام دیا۔ مگر جو انجام ہوا، وہ قرآن کے بیان کے مطابق یہ تھا کہ لوگوں نے اپنے پیغمبروں کا مذاق اُڑایا اور ان کو ماننے سے انکار کر دیا (36:30)۔ اس عام گمراہی کا سبب لوگوں کی ظاہر پرستی تھی۔ لوگ مخلوقات کو دیکھتے تھے، مگر خالق ان کو نظر نہ آتا تھا۔ اس بنا پر ایسا ہوا کہ مخلوقات میں سے جو چیز بظاہر بڑی دکھائی دی، اُسی کو انھوں نے اپنا معبود سمجھ لیا اور اس کو پوجنے لگے۔ مثلاً سورج اور چاند، وغیرہ۔ اس عام گمراہی کی بنا پر ایسا ہوا کہ پیغمبروں کی یا پیغمبروں کے مشن کی کوئی تاریخ ریکارڈ نہ ہوسکی۔ انسان نے جب لکھنا پڑھنا سیکھا تو اس نے اپنی تاریخ بھی لکھی، مگر ان تاریخوں میں بادشاہوں اور جنرلوں کے واقعات لکھے گئے، مگر پیغمبروں کو یا ان کے مشن کو ناقابلِ ذکر سمجھ کر چھوڑ دیا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت نوح سے لے کر حضرت مسیح تک کسی بھی پیغمبر کا حوالہ مدوّن تاریخ (recorded history) میں موجود نہیں۔ تاہم موجودہ زمانے میں زمین کی کھدائی سے پیغمبروں کے دور کے کچھ آثار برآمد ہوئے ہیں جن کی بنیاد پر کچھ پیغمبروں کے حالات مورخین نے تحریر کیے ہیں۔ مثلاً حضرت ابراہیم انیسویں صدی عیسوی تک تاریخی شخصیت نہیں سمجھے جاتے تھے۔ بیسویں صدی کے نصف اول (1943-1922) میں کھدائی (excavation) کے ذریعے عراق کا قدیم شہر اُر (Ur) دریافت ہوا جو کہ حضرت ابراہیم کا مقام عمل تھا۔ اس کے بعد پیغمبر ابراہیم کو ایک تاریخی شخصیت کی حیثیت سے مان لیا گیا۔ ذبیح عظیم ہزاروں سال تک پیغمبروں کو نظر انداز کرنے کا سلسلہ جاری رہا۔ ضرورت تھی کہ پیغمبر اسلام

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page