Urdu book · اظہارِ دین

ادخالِ کلمہ

Urdu book, p. 460

By Maulana Wahiduddin Khan

زمین کے نقشہ پر نظر ڈالیں تو عرب کے ایک طرف بحر متوسط ( Mediterranean Sea) ہوگا، جس کے دوسری طرف یورپ کا براعظم واقع ہے۔ اسی طرح اگر آپ عرب سے افریقہ کی طرف چلیں تو اس کی آخری سرحد پر اٹلانٹک سمندر (Atlantic Ocean) ہوگا، جس کے دوسری طرف امریکا کا براعظم واقع ہے۔ اسی طرح اگر آپ عرب سے بحر ہند (Indian Ocean) کی طرف چلیں تو اس کے دوسری طرف آسٹریلیا کا براعظم دکھائی دے گا۔ عقبہ بن نافع (وفات 683ء) ایک تابعی تھے۔ وہ عرب سے ایک دستہ لے کر نکلے اور افریقہ میں اسلام کی اشاعت کرتے ہوئے اس کے مغربی ساحل تک پہنچ گئے۔ یہاں تاحد نظر اٹلانٹک سمندر (Atlantic Ocean) پھیلا ہوا تھا۔ وہ اُس وقت گھوڑے پر سوار تھے۔ انھوں نے اپنا گھوڑا سمندر کے کنارے کھڑا کیا اور کہا: اللّٰهُمَّ إِنِّي لَوْ أَعْلَمُ وَرَاءَ هَذَا الْبَحْرِ بَلَدًا لَخُضْتُهُ إِلَيْهِ، حَتَّى لَا يُعْبَدَ أَحَدٌ دُونَكَ (الكامل في التاريخ لابن الاثير، جلد 3، صفحہ 206)۔ یعنی، خدایا، اگر میں جانتا کہ اس سمندر کے اُس پار بھی کوئی ملک ہے تو میں سمندر میں گھس کر وہاں جاتا، یہاں تک کہ تیرے سوا کسی کی عبادت نہ کی جائے۔ عقبہ بن نافع کا یہ واقعہ علامتی طور پر یہ بتاتا ہے کہ دورِ اول میں اسلام کی دعوتی توسیع زمین کے بڑی حصے میں برابر ہوتی رہی، لیکن وہ سمندر پار کے ملکوں تک نہ پہنچ سکی، کیوں کہ سمندری سفر کے لیے اُس زمانے میں قابلِ اعتماد اسباب موجود نہ تھے۔ اس کے بعد تاریخ میں ایک نیا عمل شروع ہوا۔ اس کا ایک پہلو استحکام (consolidation) تھا۔ استحکام کے بغیر دعوتی توسیع عملاً غیر مؤثر ہو جاتی، حتی کہ قرآن کی حفاظت بھی ممکن نہ ہوتی۔ اس مقصد کے لیے اللہ تعالیٰ نے ایسے عالمی حالات پیدا کیے کہ ایشیا اور افریقہ میں مسلمانوں کا سیاسی ایمپائر قائم ہو گیا۔ یہ مسلم ایمپائر اس بات کا ضامن تھا کہ خدا کا آخری دین پوری طرح محفوظ ہو جائے اور اس کی اشاعت مسلسل جاری رہے۔ مذکورہ استحکام کے دور میں اس کے زیر اثر ایک اور تاریخی پراسس (historical process) شروع ہوا۔ اس کا مقصد تھا فطرت (nature) میں چھپے ہوئے امکانات کو وقوع میں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page