Urdu book · اظہارِ دین

اظہارِ دین

Urdu book, p. 466

By Maulana Wahiduddin Khan

پرنسپل کو ذہن میں رکھے بغیر کوئی شخص تاریخ کی درست تعبیر نہیں کر سکتا۔ زیر نظر مقالے میں اسی اصول کی روشنی میں تاریخ کی ایک قابل فہم تعبیر تلاش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ مطلوب افراد کا انتخاب خدا کے اس تخلیقی منصوبے کا ذکر قرآن کی سورۃ البقرہ میں آیا ہے۔ ان آیات کا ترجمہ یہ ہے: ”اور جب تیرے رب نے فرشتوں سے کہا کہ میں زمین میں ایک خلیفہ بنانے والا ہوں۔ فرشتوں نے کہا: کیا تو زمین میں ایسے لوگوں کو بسائے گا جو اس میں فساد برپا کریں اور خون بہائیں، اور ہم تیری حمد کرتے ہیں اور تیری پاکی بیان کرتے ہیں۔ اللہ نے کہا: میں وہ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے۔ اور اللہ نے سکھا دیے آدم کو سارے نام، پھر ان کو فرشتوں کے سامنے پیش کیا اور کہا کہ اگر تم سچے ہو تو مجھے ان لوگوں کے نام بتاؤ۔ فرشتوں نے کہا کہ تو پاک ہے۔ ہم تو وہی جانتے ہیں جو تو نے ہم کو بتایا۔ بے شک تو ہی علم والا اور حکمت والا ہے۔“ (30-32: 2) فرشتوں کو یہ معلوم تھا کہ تمام موجودات مکمل طور پر خدا کے تابع فرمان ہیں، مگر انسان کو آزادی دے کر زمین پر بسایا جا رہا ہے۔ ایسی حالت میں یہ ہوگا کہ لوگ آزادی کا غلط استعمال کریں گے اور وہ زمین میں فساد اور خوں ریزی برپا کریں گے۔ اُس وقت اللہ تعالیٰ نے ایک مظاہرہ کے ذریعے فرشتوں کو بتایا کہ اگر چہ انسانوں کی بڑی تعداد آزادی کا غلط استعمال کر کے مفسد بن جائے گی، لیکن اُنھیں میں سے ایسے افراد بھی نکلیں گے جو صالح افراد ہوں گے۔ آدم نے فرشتوں کے سامنے اُنھیں صالح افراد کا تعارف کرایا اور پھر فرشتے مطمئن ہو گئے۔ اصل یہ ہے کہ فرشتے پورے انسانی مجموعے کو دیکھ کر اپنی رائے بنا رہے تھے۔ اللہ نے ایک مظاہرہ کے ذریعے واضح کیا کہ خدائی تخلیق کا نشانہ مجموعہ نہیں ہے، بلکہ افراد ہیں۔ مجموعے کی سطح پر اگرچہ بگڑ آئے گا، لیکن افراد کی سطح پر ہمیشہ اچھے افراد وجود میں آتے رہیں گے۔ خدا کے تخلیقی منصوبے کے مطابق، موجودہ دنیا ایک سلیکشن گراؤنڈ (selection ground) ہے، یعنی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page