Urdu book · اظہارِ دین

اظہارِ دین

Urdu book, p. 482

By Maulana Wahiduddin Khan

کو اپنا معبود بنا لیا، جو کہ اس کے لیے ایک قابل مشاہدہ (observable) معبود کی حیثیت رکھتا تھا۔ اسی نیچر ورشپ کا دوسرا نام شرک ہے۔ پیغمبروں کی آمد کے باوجود انسان کے لیے آزادی اختیار (freedom of choice) کا موقع بدستور باقی تھا۔ اس لیے انسان پیغمبروں کا انکار کرتا رہا۔ یہ معاملہ نسل در نسل جاری رہا، یہاں تک کہ شرک انسان کے لیے غالب کلچر بن گیا، تاریخ میں شرک کا تسلسل قائم ہو گیا۔ مشرکانہ کلچر کے عمومی غلبہ کا مزید نتیجہ یہ ہوا کہ وقت کی حکومتوں نے شرک کو اسٹیٹ کے مذہب کے طور پر اختیار کر لیا۔ اس طرح شرک کو ہر جگہ سیاسی طاقت کی سرپرستی حاصل ہو گئی۔ پہلے اگر شرک سادہ معنوں میں ایک اعتقادی برائی تھی تو اب وہ ایک طاقت ور برائی بن گئی۔ مشرکانہ اقتدار کا کلچر بڑھتا رہا، یہاں تک کہ وہ برائی پیدا ہوئی جس کو فرانسیسی مورخ ہنری پرین نے مطلق شہنشاہیت (absolute imperialism) کا نام دیا ہے۔ شرک کی اسی سیاسی سرپرستی کے نتیجے میں وہ جارحانہ مذہبیت پیدا ہوئی جس کو تاریخ میں، مذہبی جبر (religious persecution) کہا جاتا ہے۔ سیاسی حاکموں نے ایسا ماحول قائم کیا جس کے نتیجے میں لوگوں کے لیے صرف ایک ہی آپشن باقی رہا، اور وہ مشرکانہ مذہب تھا۔ توحید کا مذہب اختیار کرنے والوں کے لیے یہ انجام مقدر ہو گیا کہ وہ یا تو ریاست کے مذہب کو اختیار کر لیں، یا وہ قتل کر دیے جائیں۔ دورِ قدیم کی یہی وہ صورت حال ہے جس کی طرف قرآن کی سورۃ البروج کی آیات (8-85:4) میں اشارہ کیا گیا ہے۔ اس صورت حال سے یہ واضح ہو گیا کہ اب مذہبِ حق کا صرف اعلان کافی نہیں ہے۔ اب پہلی ضرورت یہ ہے کہ مذہب کو سیاسی اقتدار سے جدا کر دیا جائے، تا کہ انسان کے لیے آزادی کے ساتھ اپنے عقیدے کا فیصلہ کرنا ممکن ہو جائے۔ تخلیق آدم اللہ تعالیٰ نے پہلے لمبے تدریجی عمل (gradual process) کے ذریعے مادی کائنات بنائی۔ آخر میں اُس نے سیارہ ارض پر انسان کو ایک آزاد مخلوق کی حیثیت سے آباد کیا۔ اللہ تعالیٰ نے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page