تخلیقِ آدم
Urdu book, p. 484
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن میں تکریم (17:70) کہا گیا ہے، یعنی اللہ تعالی نے انسان کو اعلیٰ صلاحیت کے ساتھ پیدا کیا، اُس کو کامل آزادی دی، اُس کو یہ موقع دیا کہ وہ خود اپنے آزادانہ انتخاب (choice) سے اپنی زندگی کے لیے درست روش کو اختیار کرے اور پھر اللہ تعالیٰ یہ کہہ کر اس کے لیے جنت کا فیصلہ کرے کہ یہ تیرے اپنے عمل کی جزا ہے جو تو نے دنیا میں کیا۔ مگر انسانوں کی اکثریت نے اس منصوبہ الہی کو نہیں سمجھا۔ انھوں نے اپنی آزادی کا غلط استعمال کیا اور اس طرح انھوں نے جنت کا استحقاق کھو دیا۔ البتہ اس عموم میں کچھ مستثنی افراد پیدا ہوئے جنھوں نے اس منصوبہ الہی کو سمجھا اور اپنی آزادی کا صحیح استعمال کرکے انھوں نے اپنے آپ کو جنت کا مستحق بنالیا۔ اس قرآنی بیان کی روشنی میں غور کیجیے تو سورۃ البقرہ کے مذکورہ بیان کا مطلب یہ ہے کہ فرشتوں نے پوری انسانی نسل (total human race) کو لے کر سوچا تو وہ اس رائے پر پہنچے کہ کامل آزادی انسان کے اندر بگاڑ پیدا کرے گی۔ وہ ظلم اور فساد جیسے کاموں میں ملوث ہو جائیں گے۔ اللہ تعالی نے ایک مظاہرہ کی صورت میں اس کا جواب دیتے ہوئے بتایا کہ انسانوں کی مجموعی تعداد کے اعتبار سے بلاشبہ اُن کے اندر بگاڑ آئے گا، لیکن اس مجموعے میں ایسے مستثنی افراد بھی پیدا ہوتے رہیں گے جو اپنی آزادی کا صحیح استعمال کریں گے، اور اس طرح وہ ابدی رحمت خداوندی کے مستحق قرار پائیں گے۔ قرآن کی مذکورہ آیت میں بتایا گیا ہے کہ اللہ نے ایک مظاہرہ کے ذریعے انسانی تاریخ کے ان مستثنی افراد کو فرشتوں کے سامنے پیش کیا۔ یہ دیکھ کر فرشتے مطمئن ہو گئے۔ یہ دیکھ کر فرشتوں نے جانا کہ اُن کا اشکال انسانوں کے پورے مجموعے کی نسبت سے تھا، جب کہ اللہ کا یہ منصوبہ نہیں۔ اللہ کا منصوبہ مبنی بر افراد (individual-based) ہے، وہ مبنی بر مجموعہ (totality-based) نہیں۔ اللہ تعالیٰ کو یہ معلوم تھا کہ کامل آزادی دینے کی بنا پر انسانی دنیا ظلم و فساد کا جنگل بن جائے گی، مگر اس عموم میں استثنا بھی ہوگا۔ انسانوں کے پھیلے ہوئے جنگل میں ایسے استثنائی افراد بھی پیدا ہوں گے جو ظلم و فساد کے جنگل میں ربانی پھول کے مانند ہوں گے۔ اللہ کی نظر انھیں ربانی پھولوں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader