فردِ انسانی، مجموعۂ انسانی
Urdu book, p. 486
By Maulana Wahiduddin Khan
فردِ انسانی، مجموعہ انسانی تاریخ میں جتنے مفکر اور مصلح گزرے ہیں، وہ سب کے سب آئیڈیلسٹ (idealist) تھے۔ اُن میں سے ہر ایک پوری انسانیت کی سطح پر معیاری نظام (ideal system) قائم کرنا چاہتا تھا۔ قدیم یونان کے فلسفی افلاطون اور ارسطو کا خواب یہ تھا کہ دنیا میں آئیڈیل سوسائٹی بنے۔ برٹش فلسفی برٹرینڈ رسل چاہتا تھا کہ ایک پر امن دنیا وجود میں آئے۔ انڈیا کے لیڈر مہاتما گاندھی کا نشانہ یہ تھا کہ آزادی کے بعد انڈیا میں مبنی بر خدمت سماج (سیوا سماج) تشکیل پائے، وغیرہ۔ یہ سب انسانی زندگی کے معیاری تصورات تھے۔ مگر واقعات بتاتے ہیں کہ عملاً تمام کے تمام مفکرین اور مصلحین معیاری دنیا (ideal world) کو وجود میں لانے میں ناکام رہے۔ اس کا سبب یہ تھا کہ ہر مفکر اور ہر مصلح نے اپنے دماغ سے سوچا۔ کسی نے یہ سمجھنے کی کوشش نہیں کی کہ اِس معاملے میں خالق کی اسکیم (scheme of things) کیا ہے۔ مفکرین اور مصلحین کا منصوبہ خالق کے منصوبے سے مطابقت نہ رکھتا تھا، اِس لیے وہ مکمل طور پر ناکام رہا۔ خالق نے ہر انسان کو آزادی اختیار (freedom of choice) دی ہے۔ یہ آزادی اختیار قیامت سے پہلے، ہر گز منسوخ ہونے والی نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس دنیا میں مجموعہ انسانی کی سطح پر کسی معیاری نظام کا بننا ممکن نہیں۔ یہاں معیاری فرد تو وجود میں آسکتا ہے، لیکن مجموعے کی سطح پر کوئی معیاری نظام کبھی وجود میں نہیں آسکتا۔ معیاری افراد کا وجود میں آنا تو ممکن ہے، مگر معیاری سماجی نظام کا وجود میں آنا ممکن نہیں۔ واقعات بتاتے ہیں کہ اِس دنیا میں مجموعہ انسانیت کی سطح پر کوئی معیاری نظام تو کبھی وجود میں نہ آسکا، لیکن عین اسی وقت ہر زمانے میں فرد (individual) کی سطح پر معیاری انسان وجود میں آتے رہے۔ خالق کے نقشے کے مطابق، یہ ممکن نہیں کہ موجودہ دنیا میں پورے سماج کی سطح پر کوئی معیاری نظام تشکیل پائے۔ لیکن عین اسی وقت پوری تاریخ میں ایک واقعہ مسلسل پیش آرہا ہے، وہ یہ کہ ہر دور میں معیاری افراد بن رہے ہیں۔ خالق کی اسکیم کے مطابق، جو ہونے والا ہے، وہ یہ کہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader