Urdu book · اظہارِ دین

اظہارِ دین

Urdu book, p. 503

By Maulana Wahiduddin Khan

اصحاب رسول اور اخوان رسول دونوں ہی کا نشانہ ایک ہوگا اور وہ ہے دعوت الی اللہ۔ اس دعوت الی اللہ کے دو بڑے دور ہیں — ایک ہے عالمی کمیونیکیشن سے پہلے کا دور۔ دوسرا ہے، عالمی کمیونیکیشن کے بعد کا دور۔ اصولی طور پر یہ کہا جاسکता ہے کہ عالمی کمیونیکیشن کے ظہور سے پہلے جو مواقع تھے، اصحاب رسول نے اُن کا بھر پور استعمال کیا۔ بعد کو عالمی کمیونیکیشن کے زمانے میں جو مواقع دعوت پیدا ہوں گے، اُن کو جو لوگ بھر پور طور پر استعمال کریں، وہی وہ لوگ ہیں جن کو حدیث میں اخوان رسول کہا گیا ہے۔ اخوانِ رسول کسی پراسرار گروہ کا نام نہیں۔ جنت کی دنیا انسانی تاریخ ایک عورت اور ایک مرد سے شروع ہوئی، پھر لوگ پیدا ہوتے رہے اور مرتے رہے۔ اس طرح یہ سلسلہ نسل در نسل ہزاروں سال سے قائم ہے۔ اکیسویں صدی کے رُبع اوّل میں پورے کرۂ ارض پر انسانوں کی تعداد سات بلین سے زیادہ ہوچکی ہے۔ اس سے پہلے جو لوگ مرگئے، وہ بھی معدوم نہیں ہوئے، بلکہ وہ آخرت کی دنیا میں بدستور زندہ موجود ہیں۔ جس طرح انسانی تاریخ کا ایک آغاز ہے، اُسی طرح اس کا ایک اختتام بھی ہے۔ انسانی تاریخ کے خاتمے کے بعد ایک اور دنیا بنے گی۔ یہ دنیا کامل معنوں میں ایک معیاری دنیا ہوگی۔ اس معیاری دنیا میں پوری تاریخ کے منتخب افراد آباد کیے جائیں گے۔ قرآن میں اس حقیقت کو ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: اِنَّ الْأَرْضَ يَرِثُهَا عِبَادِيَ الصّٰلِحُونَ (21:105)۔ یعنی، زمین کے وارث میرے صالح بندے ہوں گے۔ یہ حقیقت پچھلی آسمانی کتابوں میں بھی بیان ہوئی ہے۔ موجودہ بائبل میں اس سلسلے میں یہ الفاظ آئے ہیں — بدی کو چھوڑ دے اور نیکی کر اور ہمیشہ تک آباد رہ، کیوں کہ خداوند انصاف کو پسند کرتا ہے اور وہ اپنے مقدّسوں کو ترک نہیں کرتا، وہ ہمیشہ کے لیے محفوظ ہیں، پرشریروں کی نسل کاٹ ڈالی جائے گی۔ صادق زمین کے وارث ہوں گے اور اس میں ہمیشہ آباد رہیں گے:

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page