Urdu book · اظہارِ دین

اظہارِ دین

Urdu book, p. 513

By Maulana Wahiduddin Khan

اس کا مطلب یہ ہے کہ پیغمبر اس قرآن کے ذریعے سے اپنے معاصرین کو آگاہ کرے اور بعد کے زمانے میں پیغمبر کے ماننے والے اگلی نسلوں کو ہر دور میں اُس سے آگاہ کرتے رہیں۔ دعوت کا یہ عمل مسلسل طور پر قیامت تک جاری رہے گا۔ دعوت الی اللہ کی اس عالمی تکمیل کا ذکر ایک حدیث رسول : لَا يَبْقَى عَلَى ظَهْرِ الْأَرْضِ بَيْتُ مَدَرٍ وَلَا وَبَرٍ إِلَّا أَدْخَلَهُ اللَّهُ كَلِمَةَ الْإِسْلَامِ (مسند احمد، حدیث نمبر 23814)— یعنی، دنیا کے تمام چھوٹے اور بڑے گھروں میں اللہ تعالیٰ اسلام کا کلمہ داخل کردے گا— میں زیادہ واضح طور پر آیا ہے۔ دعوت الی اللہ کی عالمی اشاعت کے لیے عالمی ذرائع مواصلات درکار تھے، جو کہ ساتویں صدی عیسوی میں قابلِ حصول نہ تھے۔ اِس لیے دعوت الی اللہ کی تکمیل کو مستقبل میں پیش آنے والے واقعے کی حیثیت سے بطور پیشین گوئی (prediction) بیان کیا گیا ہے۔ دورِ آخر کے دُعاۃ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث اِن الفاظ میں آئی ہے: عِبَادِي لَيْسُوا بِأَنْبِيَاءَ وَلَا شُهَدَاءَ، يَغْبِطُهُمُ النَّبِيُّونَ وَالشُّهَدَاءُ لِمَقْعَدِهِمْ وَقُرْبِهِمْ مِنَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ( مسند احمد، حدیث نمبر 22894)۔ یعنی، اللہ کے کچھ ایسے بندے ہیں جو نہ پیغمبر ہوں گے اور نہ شہید، مگر قیامت کے دن انبیاء اور شہدا بھی اُن پر رشک کریں گے، اللہ سے اُن کے قرب کی بنا پر۔ اس حدیث رسول میں غبطہ (envy) کا لفظ اپنے لفظی معنی میں نہیں ہے، یعنی اس کا مقصد مذکورہ افراد کی پر اسرار فضیلت بیان کرنا نہیں ہے، بلکہ یہ دراصل تحیر خیز پسندیدگی (wondrous appreciation) کے معنی میں ہے، یعنی وہ لوگ اگر چہ پیغمبر کے امتی ہوں گے، لیکن پیغمبر کی ہدایت کا اتباع کرتے ہوئے اُن کے ذریعے کچھ ایسے کام انجام پائیں گے جو پچھلی پوری تاریخ نبوت میں انجام نہیں پایا تھا۔ یہ معاملہ کوئی پراسرار معاملہ نہیں، غور کر کے اس کو سمجھا جاسکتا ہے۔ اصل یہ ہے کہ دین خداوندی میں جو چیز مطلوب ہیں، وہ بہ تمام و کمال وجود میں آچکی ہیں— وحی الہی کے ذریعے آتی ہوئی ہدایت کا پوری طرح محفوظ ہوجانا، پیغمبر کی صورت میں انسان کی زندگی کا ایک رول ماڈل

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page