توجہی لٹریچر
Urdu book, p. 519
By Maulana Wahiduddin Khan
تھا۔ اب اس کی حیثیت کلاسیکل لٹریچر (classical literature) کی ہو چکی ہے۔ آج کے حالات کے اعتبار سے اس کا ریلیونس (relevance) تقریباً ختم ہو چکا ہے۔ اب نئے حالات کے اعتبار سے نیا توجہی لٹریچر درکار ہے جو جدید ذہن کو ایڈریس کر سکے۔ آج اسلام کے دعوتی مشن کے لیے ایسا لٹریچر درکار ہے جو روح عصر (spirit of the age) کے مطابق ہو۔ صرف ایسا لٹریچر ہی جدید ذہن کو ایڈریس کر سکتا ہے اور لوگوں کو یہ یقین عطا کر سکتا ہے کہ اسلام میں آج کے انسان کے لیے بھی اسی طرح قابل اعتماد رہنمائی موجود ہے جس طرح قدیم انسان نے اس میں اپنے لیے قابلِ اعتماد رہنمائی پائی تھی۔ موجودہ زمانے میں اسلام کے لیے جو نیا توجہی لٹریچر درکار ہے، اس کی چند خصوصیات ہیں۔ اول یہ کہ وہ اپنے دلائل کے اعتبار سے مبنی بر عقل (reason based) ہو_ قدیم روایتی طریقہ آج کے لیے کارآمد نہیں۔ دوسرے یہ کہ اس کا اپروچ یونی ورسل اپروچ (universal approach) ہو۔ قدیم انداز کا گروہی اپروچ (sectarian approach) آج کے انسان کے لیے قابلِ قبول نہیں ہے۔ تیسری بات یہ کہ اس لٹریچر کو مکمل طور پر پیس فل (peaceful) لٹریچر ہونا چاہیے ۔ کوئی ایسا لٹریچر جس کے اندر براہِ راست یا بالواسطہ طور پر تشدد (violence) کا فکر موجود ہو، وہ آج کے انسان کے لیے قابلِ قبول نہیں ہو سکتا۔ آخرت میں قابلِ رشک درجہ اُس گروہ کو ملے گا جو ان تقاضوں کے مطابق ، اکیسویں صدی میں دعوت الی اللہ کا فریضہ انجام دے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader