امتِ مسلمہ کا کیس
Urdu book, p. 522
By Maulana Wahiduddin Khan
امتِ مسلمہ کا کیس قانونِ فطرت کے مطابق، امتِ مسلمہ کی بعد کی نسلوں میں وہی زوال آنا مقدر تھا جو اس سے پہلے بنی اسرائیل پر آیا۔ زوال کی یہ حالت اپنی آخری صورت میں انیسویں صدی اور بیسویں صدی میں کھل کر سامنے آگئی۔ اب امت کے رہنماؤں کو وہی کرنا تھا جو اس سے پہلے حضرت موسیٰ نے اپنی قوم کے ساتھ کیا تھا، یعنی زمانے کے اعتبار سے امت کو ایک تربیتی کورس سے گزارنا، تا کہ اُن پر قرآن کی یہ آیتِ صادق آجائے: لِيَهْلِكَ مَنْ هَلَكَ عَنْ بَيِّنَةٍ وَيَحْيَى مَنْ حَيَّ عَنْ بَيِّنَةٍ (8:42)۔ یعنی، تا کہ جس کو ہلاک ہونا ہے، وہ روشن دلیل کے ساتھ ہلاک ہو اور جس کو زندگی حاصل کرنا ہے، وہ روشن دلیل کے ساتھ زندہ رہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ امت کے جو نا قابلِ اصلاح افراد ہیں، وہ ختم ہو جائیں اور جو قابلِ اصلاح افراد ہیں، وہ بیدار ہو کر مطلوب رول ادا کرنے کے قابل ہوسکیں۔ غور کرنے سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ موجودہ زمانے میں اس طریقِ علاج کا بہترین میدان وہ تھا جس کو سیکولر تعلیم کا نظام کہا جاتا ہے۔ یہی تعلیمی نظام مکمل طور پر مسابقت (competition) کے اصول پر قائم تھا۔ یہاں دوسری قوموں کی طرف سے چیلنج کا مقابلہ کرتے ہوئے آگے بڑھنا تھا۔ یہاں کا فارمولا یہ تھا کہ ــ مقابلہ کر کے زندہ رہو یا مر جاؤ: Compete or perish اس اعتبار سے، موجودہ زمانے کا سیکولر تعلیمی نظام گو یا تعلیمی طریقِ علاج (educational therapy) کا میدان بن گیا تھا۔ ضرورت تھی کہ قوم کے تمام نوجوانوں کو اس طریقِ علاج کے پراسس سے گزارا جائے_ لیکن مسلمانوں کے علما اور رہنماؤں نے اس حکمت کو نہیں سمجھا۔ انھوں نے اس معاملے کی حکمت سے بے خبر رہتے ہوئے یہ اعلان کر دیا کہ یہ تعلیمی نظام تمام تر اینٹی مسلم نظام ہے۔ چنانچہ کسی نے اس نظام کو 'قتل گاہ' قرار دیا۔ اور کسی نے اس کو 'ذہنی ارتداد' کا کار خانہ قرار دیا، وغیرہ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader