زوال کی آخری مثال
Urdu book, p. 526
By Maulana Wahiduddin Khan
لارڈ میکالے سے پہلے انڈیا کی آفیشیل زبان فارسی تھی۔ لارڈ میکالے کی کوششوں سے ایسا ہوا کہ 1938 میں انگریزی زبان کو سرکاری زبان کا درجہ دے دیا گیا۔ اس کے بعد ملک کے اسکولوں میں انگریزی زبان ذریعہ تعلیم قرار پائی۔ لارڈ میکالے کا کہنا تھا کہ اس سے ایک نئی نسل پیدا ہوگی جو کہ پیدائش کے اعتبار سے ہندوستانی اور اپنے ذہن کے اعتبار سے انگریز ہوگی: So that a generation may arise which is Indian in birth and English in thought. لارڈ میکالے نے جب یہ کہا تو اس کے خلاف سخت ہنگامہ کیا گیا، خاص طور پر مسلم رہنما انگریزی تعلیم کے شدید مخالف ہو گئے، حتی کہ انھوں نے کہا کہ انگریزی تعلیم گاہیں مسلمانوں کے لیے قتل گاہ کی حیثیت رکھتی ہیں۔ مگر یہ سب غیر ضروری اندیشے تھے۔ عملاً جو کچھ ہونے والا تھا، وہ صرف یہ کہ ان درس گاہوں میں تعلیم پانے کی وجہ سے کٹرپن ختم ہو جائے اور لوگوں کے اندر کھلا پن آجائے۔ اپنے نتیجے کے اعتبار سے دیکھیے تو لارڈ میکالے کا قول ایک لفظی تبدیلی کے ساتھ دراصل یہ تھا: So that a generation may arise which is Indian in birth and liberal in thought. (Macaulay, T. B.: Minute on Indian Education, 2nd February 1835) چنانچہ تجربہ بتاتا ہے کہ ان انگریزی اداروں میں تعلیم پائے ہوئے مسلم نوجوانوں میں سے بہت سے ایسے تھے جو بعد کو بہترین مسلمان بنے۔ مسلم جماعتوں اور تنظیموں کو انھیں انگریزی اداروں سے بہترین افراد حاصل ہوئے، وغیرہ۔ اس معاملے میں اصل قابلِ لحاظ بات یہ نہیں ہے کہ لارڈ میکالے یا برٹش حکمرانوں نے بطور خود کس نظریے کے تحت انگریزی تعلیم گاہیں بنائیں، بلکہ اصل قابل لحاظ بات یہ ہے کہ باعتبار نتیجہ ان کا انجام کیا ہوا، اور یہ کہ یہاں سے کس قسم کے لوگ تعلیم پا کر نکلے۔ انگریزی تعلیم حقیقتاً برٹش تعلیم نہ تھی، بلکہ وہ جدید علم (modern learning) کے حصول کا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader