Urdu book · اظہارِ دین

زوال کی آخری مثال

Urdu book, p. 530

By Maulana Wahiduddin Khan

مگر اسلام کی بعد کی صدیوں میں یہ ہوا کہ اسلام کے متن کی تشریح وتصیل کے طور پر ہزاروں کتابیں عربی زبان میں لکھی گئیں۔ اس کے بعد دھیرے دھیرے یہ ہوا کہ بعد کو لکھی جانے والی یہ کتابیں شعوری یا غیر شعوری طور پر اسلام کا اصل ماخذ قرار پا گئیں۔ اب یہی کتابیں مدرسوں اور اداروں اور لائبریریوں میں استعمال ہوتی ہیں، ہر جگہ اُنہی کا چرچا ہوتا ہے، حتیٰ کہ عملاً اب قرآن اور سنت کی حیثیت ثانوی ہوگئی ہے اور بعد کو پیدا ہونے والے لٹریچر کو بلا اعلان اسلام کے اولین لٹریچر کی حیثیت حاصل ہوگئی ہے۔ اب موجودہ مسلمانوں کی حالت یہ ہے کہ فکری حیثیت سے وہ دینِ منزّل پر کھڑے ہوئے نہیں ہیں، اب عملاً وہ اُس دین پر کھڑے ہوئے ہیں جو بعد کی صدیوں میں مسلم علما نے اصل دین کی تشریح وتفصیل کی حیثیت سے بطورِ خود مدوّن کیا۔ مسلمانوں کی یہ صورتِ حال پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی اُس پیشین گوئی کی تصدیق ہے جو حدیث کی کتابوں میں اِن الفاظ میں آئی ہے: مِنْ اِقْتِرَابِ السَّاعَةِ أَنْ يُرْفَعَ الْأَشْرَارُ، وَيُوضَعَ الْأَخْيَارُ، وَتُوضَعَ فِي الْقَوْمِ الْمِثْنَاةُ، لَيْسَ أَحَدٌ يُغَيِّرُهَا۔ قِيلَ: وَمَا الْمِثْنَاةُ؟ قَالَ: كِتَابُ كُتِبَ سِوَى كِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ (المستدرک علی الصحیحین، حدیث نمبر 8874)۔ یعنی، قربِ قیامت کی ایک علامت یہ ہے کہ برے لوگوں کو بلندی حاصل ہو جائے گی، اور اچھے لوگوں کو ذلیل کیا جائے گا، اور لوگوں کے درمیان مُثْناة کا رواج عام ہو جائے گا، کوئی نہ ہوگا جو اس کی تغییر کرے۔ پوچھا گیا کہ مثناة کیا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ : اللہ کی کتاب کے سوا لکھی جانے والی کتابیں۔ اس حدیث میں دراصل امتِ مسلمہ کے زوال کی حالت کو بتایا گیا ہے۔ جب ملت پر زوال کا دور آتا ہے تو اس کی حالت بھی وہی ہو جاتی ہے جو دوسری ملتوں کی ہوئی، یعنی لوگ ظاہر پسند بن جاتے ہیں۔ اُن کو معنوی حقائق دکھائی نہیں دیتے، البتہ ظاہری چیزیں خوب نظر آتی ہیں۔ لوگوں کے اِس بگڑے ہوئے ذوق کی بنا پر اُن کے درمیان دنیا پرست قسم کے لوگ ابھرتے ہیں اور آخرت پسند قسم کے لوگ غیر نمایاں بن جاتے ہیں۔ جو لوگ بگڑے ہوئے عوامی ذوق کو غذا فراہم

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page