زوال کی آخری مثال
Urdu book, p. 565
By Maulana Wahiduddin Khan
فکری مستوی کے مطابق خطاب ایک روایت کے مطابق، پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بُعِثْنَا مَعَاشِرَ الْأَنْبِيَاءِ نُخَاطِبُ النَّاسَ عَلَى قَدْرِ عُقُولِهِمْ (المقاصد الحسنہ للسخاوی، حدیث نمبر 120)۔ یعنی، تمام پیغمبروں کو یہ حکم دیا گیا ہے کہ وہ لوگوں کو اُن کے عقلی معیار کے مطابق، خطاب کریں۔ اس حدیث میں ’قدرِ عقل‘ سے مراد فکری مستوی (intellectual level) ہے، یعنی لوگوں سے ایسی زبان میں خطاب کرنا جو اُن کے لیے قابلِ فہم ہو اور اُن کے ذہن کو ایڈریس کرے۔ جس دعوتی خطاب میں مدعو کی یہ رعایت شامل نہ ہو، وہ مطلوب دعوتی خطاب نہیں ۔ اس حدیث رسول کا ایک تقاضا یہ ہے کہ داعی اور مدعو کے درمیان اگر ذہنی بُعد (intellectual gap) پیدا ہو جائے تو داعی کو چاہیے کہ وہ اپنے آپ کو اس طرح تیار کرے کہ مدعو کے ذہن کے اعتبار سے، اس کا کلام ایک مؤثر کلام بن جائے۔ موجودہ زمانے کی نسبت سے ایک بہت بڑا مسئلہ یہ ہے کہ مسلم علما اپنی تعلیم کے اعتبار سے، صرف روایتی ذہن کو خطاب کرنا جانتے ہیں۔ اِس بنا پر جدید تعلیم یافتہ طبقہ، علما کی پہنچ سے باہر ہو گیا ہے۔ علما کا روایتی طرزِ خطاب جدید ذہن کو اپیل نہیں کرتا۔ ایسی حالت میں علما کا یہ فرض ہے کہ وہ اپنے آپ کو اس طرح تیار کریں کہ وہ جدید ذہن کو خطاب کرنے کے قابل ہوسکیں۔ جدید فکری مستوی کوئی پراسرار چیز نہیں، وہ دراصل عقلی مستوی (rational level) کا دوسرا نام ہے۔ آج کا انسان صرف اُس کلام سے متاثر ہو سکتا ہے جو جدید عقلی معیار پر پورا اترتا ہو، جو دورِ جدید کے مسلّمات سے مطابقت رکھنے والا ہو، جو دینی حقائق کو عقل کے معروف اصولوں پر ثابت شدہ بناتا ہو۔ قدیم اسلوب کو اگر روایتی اسلوب کہا جائے تو جدید اسلوب کو سائنسی اسلوب کہا جائے گا۔ جو بات مذکورہ حدیثِ رسول میں کہی گئی ہے، اس کی اصل خود قرآن میں موجود ہے۔ قرآن کی سورہ ابراہیم میں یہ آیت آئی ہے: وَمَا أَرْسَلْنَا مِنْ رَسُولٍ إِلَّا بِلِسَانِ قَوْمِهِ لِيُبَيِّنَ لَهُمْ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader