Urdu book · اظہارِ دین

زوال کی آخری مثال

Urdu book, p. 569

By Maulana Wahiduddin Khan

الَّذِي بَيْنَكَ وَبَيْنَهُ عَدَاوَةٌ كَأَنَّهُ وَلِيٌّ حَمِيمٌ (41:34)۔ پھر تم دیکھو گے کہ تم میں اور جس میں دشمنی تھی، وہ ایسا ہو گیا جیسے کوئی دوست قرابت والا۔ تاریخ بتاتی ہے کہ مستشرقین کے معاملے میں اس طرح کے واقعات بار بار پیش آئے ہیں۔ بہت سے ایسے مستشرق ہیں جنھوں نے اسلام کا مطالعہ کیا۔ وہ اسلام کی صداقت سے متاثر ہوئے اور انھوں نے اسلام کے بارے میں بہت سی اعلیٰ کتابیں لکھیں۔ مثلاً ٹامس کارلائل (وفات 1881)، ٹی ڈبلو آرنلڈ (وفات 1930)، فلپ کے ہٹی (وفات 1978)، وغیرہ۔ کچھ اور لوگ ہیں جنھوں نے اسلام کے تفصیلی مطالعے کے بعد باقاعدہ اسلام قبول کر لیا۔ مثلاً ہنگری کے عبد الكريم جَر مانوس (وفات 1979)، وغیرہ۔ مستشرق عام طور پر اُس کو کہا جاتا ہے جو کسی مغربی ملک میں پیدا ہوا ہو اور پھر وہ مشرقی مذاہب کا مطالعہ کرے۔ لیکن تو سیعی طور پر اس فہرست میں ایسے افراد بھی شامل کیے جا سکتے ہیں جو کسی دوسرے مذہب میں پیدا ہوئے ہوں اور پھر وہ مختلف مذاہب کا مطالعہ کریں اور مطالعہ کے بعد اسلام قبول کر لیں ۔ اس دوسری قسم میں بھی بہت سے افراد پائے جاتے ہیں۔ مثلاً ڈاکٹر نشی کانت چٹو پادھیائے، وغیرہ۔ ڈاکٹر نشی کانت چٹو پادھیائے کا مختصر تعارف درج ذیل ہے: Chattopadhyay, Nishikanta (1852-1910) research scholar and the first Bengali to obtain a PhD degree (1882) from a European university, was born in July 1852 in the village of Pashchimpara in Vikrampur, Dhaka. Nishikanta passed the FA from Presidency College. He then went to Germany to study German, Sanskrit, linguistics, history and philosophy at Leigpiz University. But he was expelled from there for being an atheist. He proceeded to Switzerland and completed his doctoral studies at the University of Zurich. He returned to India in 1883 and subsequently taught at different colleges in Hyderabad, Mysore and Muzaffarpur. Towards the end of his life, he embraced Islam. (www.banglapedia.org, accessed on 25.01.2026)

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page