Urdu book · اظہارِ دین

زوال کی آخری مثال

Urdu book, p. 575

By Maulana Wahiduddin Khan

عصری تقاضے - چند قابل غور پہلو حدیث میں آیا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اِنَّ اللهَ يَبْعَثُ لِهٰذِهِ الْاُمَّةِ عَلَى رَأْسِ كُلِّ مَائِئَةِ سَنَةٍ مَّنْ يُجَدِّدُ لَهَا دِيْنَهَا (سنن ابوداؤد، حدیث نمبر 4291)۔ یعنی، اللہ اس امت کے لیے ہر سو سال کے سرے پر ایک شخص کو اٹھائے گا جو اُس کے لیے اُس کے دین کی تجدید کرے گا۔ یہ کوئی پراسرار بات نہیں۔ یہ فطری قانون کے تحت پیش آنے والا ایک معاملہ ہے۔ انسان ایک ایسی مخلوق ہے جس کی عمر بہت محدود ہے۔ وہ سو سال سے پہلے ہی مر جاتا ہے۔ اس طرح ہمیشہ ایک کے بعد دوسری نسل آتی رہتی ہے۔ ایک تیار شدہ نسل ختم ہو جاتی ہے، اس کے بعد ایک غیر تیار شدہ نسل پیدا ہو کر اس کی جگہ لے لیتی ہے اور ضرورت ہوتی ہے کہ جس طرح پہلی نسل کو تیار کیا گیا تھا، اُسی طرح دوبارہ اگلی نسلوں کو تیار کیا جائے۔ زوال کا مذکورہ عمل ایک مسلسل عمل ہے، اور اُسی کو انحطاط (degeneration) کہا جاتا ہے۔ تجدید اِسی صورتِ حال کی اصلاح کا نام ہے۔ مذکورہ حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اس فطری پر اس کے معاملے میں امت محمدی کا کوئی استثنا نہیں۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد امت پر جب زوال کا دور آیا، تو بار بار مجددین اسلام پیدا ہوتے رہے۔ مثلاً عمر بن عبدالعزیز اُموی (وفات 720ء)، ابن تیمیہ الحرانی (وفات 1328ء)، شاہ ولی اللہ دہلوی (وفات 1762ء)، وغیرہ۔ یہ لوگ مسلّم طور پر مجدد تھے، اور انھوں نے اپنے زمانے کے لحاظ سے تجدید کا کام کیا۔ دو دور امت مسلمہ کے ثابت شدہ طور پر دو دور ہیں— روایتی دور (traditional period)، اور سائنسی دور (scientific period)۔ تاریخی ترتیب کے لحاظ سے دیکھا جائے تو پچھلی صدیوں میں جو مجددین اسلام پیدا ہوئے، وہ سب روایتی دور میں پیدا ہوئے۔ انھوں نے روایتی ڈھانچے میں دین

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page