کائناتى معنویت کی توجیہ
Urdu book, p. 61
By Maulana Wahiduddin Khan
یہ میرے لیے ایک انسپریشن (inspiration) تھا۔ یہ گویا ایک قسم کا الہامی تجربہ تھا جو مسجد کے اندر اذان اور اقامت کے درمیان پیش آیا۔ اس پر غور کرنے کے بعد میں نے سمجھا کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک اشارہ ہے، تا کہ میں پیدا شدہ جدید علمی مواقع کا جائزہ لوں اور اُن کو الحاد کی تردید اور توحید کے علمی اثبات کے لیے استعمال کروں۔ یہ گویا سیکولر اہل علم کے پیدا کردہ علمی امکانات کو اسلامائز کرنا تھا۔ اور جدید دور میں اظہار دین کے اُس علمی واقعے کو بروئے کار لانا تھا جس کے امکانات وقوع میں آ چکے ہیں، لیکن ابھی ان کو استعمال نہ کیا جا سکا۔ اس موضوع پر میں پہلے بھی کام کر رہا تھا۔ لیکن مذکورہ تجربے کے بعد میرے شعور میں ایک نئی بیداری آئی اور میں اس قابل ہو گیا کہ زیادہ حوصلے کے ساتھ اس علمی خدمت کو انجام دوں۔ آخر کار، طویل کوشش کے بعد وہ کتاب وجود میں آئی جو مذکورہ تجربے کی روشنی میں گاڈ ارائزز (God Arises) کے نام سے 1985 میں شائع ہوئی۔ اس سے پہلے یہ کتاب اردو اور عربی زبان میں چھپ چکی تھی۔ لیکن مذکورہ انگریزی ایڈیشن مزید اضافے کے ساتھ اس کا زیادہ جامع ایڈیشن تھا۔ اس کے بعد یہی موضوع (modern challenges to Islam) میرا مستقل موضوع بن گیا۔ اس کے بعد مضامین اور کتابوں کی شکل میں میری سیکڑوں کوششیں مختلف زبانوں میں شائع ہوئیں۔ میری ان تمام تحریروں کا موضوع مشترک طور پر صرف ایک تھا، اور وہ ہے ۔ اسلام اور عصری تحدیات ۔ اس کے بعد براہ راست یا بالواسطہ طور پر یہی میری زندگی کا مستقل موضوع بن گیا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader