Urdu book · اظہارِ دین

زوال کی آخری مثال

Urdu book, p. 666

By Maulana Wahiduddin Khan

کے انسان نے یہ کیا کہ اُس نے نعمت (blessing) کولیا، اور منعم (giver) کو چھوڑ دیا۔ یعنی خالق رُخی نظریے کو ترک کرکے، مخلوق رُخی نظریے کو اختیار کرلیا۔ انسان کی یہ فطرت ہے کہ اُس کو جب کوئی چیز ملے تو وہ دینے والے کا اعتراف کرے۔ احساسِ تشکر (gratitude) انسان کی فطرت کا ایک لازمی تقاضا ہے۔ موجودہ زمانے میں انسان نے دور بارہ یہ کیا کہ اُس نے اپنے احساسِ تشکر کو خالق کے بجائے مخلوق کی طرف موڑ دیا۔ جو قلبی اعتراف اُس کو منعم کے لیے پیش کرنا چاہیے تھا، اُس کو وہ منعم کی پیدا کردہ مخلوق کے لیے پیش کرنے لگا۔ آج کل کے لوگوں کی باتیں سنیے، یا ان کی تحریریں پڑھیے تو بار بار اس قسم کے نمونے سامنے آتے ہیں۔ ہر آدمی اپنے روزانہ کے تجربات میں اس کے نمونے دیکھ سکتا ہے۔ یہاں مثال کے طور پر میں ایک حوالہ نقل کروں گا۔ نئی دہلی کے انگریزی اخبار ٹائمس آف انڈیا (27 جنوری 2008) میں اس موضوع پر ایک مضمون چھپا ہے۔ اس کے لکھنے والے کا نام ڈونا (Donna Devane) ہے۔ اس مضمون کا عنوان یہ ہے: Be happy here and now. آج کل کے زمانے میں انسان ایک عام مسئلے سے دوچار ہے۔ وہ ٹینشن یا اسٹریس (stress) ہے۔ یہ ٹینشن کیوں ہے، اس کا سبب یہ ہے کہ انسان اپنی فطرت کو اُس کی مطلوب خوراک نہیں دے رہا ہے۔ وہ خالق کی پیدا کی ہوئی چیزوں سے بھر پور انتفاع کر رہا ہے، لیکن وہ خالق کا اعتراف نہیں کرتا۔ یہ بے اعترافی، یا عدم تشکر فطرت کے خلاف ہے۔ اس لیے وہ انسان کے اندر شعوری یا غیر شعوری طور پر ٹینشن یا اسٹریس کا سبب بنا ہوا ہے۔ موجودہ انسان نے اس کا یہ غیر فطری حل دریافت کیا ہے کہ دینے والے کے بجائے، خود دی ہوئی چیزوں پر تشکر کا اظہار کرنا۔ مذکورہ مضمون اسی جدید ذہن کی نمائندگی کر رہا ہے۔ چنانچہ اس میں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page