زوال کی آخری مثال
Urdu book, p. 675
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآنی ماڈل اب پیراڈائز کے بارے میں قرآنی ماڈل (Quranic model) کو لیجئے ۔ اس معاملے میں قرآن کا ماڈل، خدا کے تخلیقی پلان (creation plan of God) پر مبنی ہے۔ قرآن کے مطابق، خداوند عالم کا تخلیقی پلان اور پیراڈائز دونوں ایک دوسرے سے پوری طرح جڑے ہوئے ہیں۔ اسی لیے قرآن کے مطابق، پیراڈائز کے معاملے کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ اس کو خداوند عالم کے تخلیقی پلان کی روشنی میں سمجھا جائے۔ قرآن، خدا کی کتاب ہے۔ وہ پوری طرح اپنی اصل حالت میں محفوظ ہے۔ قرآن کے مطابق، خدا نے انسان کو بنایا اور اس کو موجودہ زمین پر آباد کیا۔ یہ آباد کاری بطور امتحان تھی، نہ کہ بطور انعام، یعنی یہ آباد کاری اس لیے تھی کہ دنیا کی عارضی زندگی میں انسان اپنے آپ کو پیراڈائز کا اہل ثابت کرے اور پھر موت کے بعد آنے والی اگلی دنیا میں اس کو اس کے عمل کے مطابق ، پیراڈائز میں بسایا جائے۔ اس اعتبار سے موجودہ دنیا گویا کہ ایک انتخابی میدان (selection ground) ہے۔ یہاں آدمی کو مختلف قسم کے احوال میں رکھ کر جانچا جا رہا ہے کہ کون اپنے عمل سے اس بات کا ثبوت دے رہا ہے کہ وہ جنت کی معیاری دنیا میں بسائے جانے کے قابل ہے۔ جو لوگ اس جانچ میں پورے اتریں، ان کو منتخب کر کے جنت کی ابدی دنیا میں داخل کر دیا جائے گا۔ اور جو لوگ اس جانچ میں ناکام ہو گئے، اُن کو ابدی طور پر کائنات کے کوڑے خانے (جہنم) میں ڈال دیا جائے گا۔ قرآن کے مطابق، یہ جنت ابدی ہوگی اور اسی کے ساتھ ایک معیاری اور آئیڈیل جنت۔ یہاں یہ ممکن ہوگا کہ انسان ہر قسم کے خوف اور ہر قسم کے حزن سے بچ کر زندگی گزارے۔ جنت کی یہ دنیا ہر قسم کے ناموافق حالات (disadvantages) اور ہر قسم کی محدودیت (limitations) سے خالی ہوگی۔ یہاں انسان وہ سب کچھ پالے گا جس کی تمنا وہ اپنے دل میں محسوس کرتا ہے۔ جنت کی اِس دنیا میں آدمی کی تمام خواہشیں (desires) پوری ہوں گی۔ یہاں اُس کو مکمل فل فل منٹ (fulfilment) حاصل ہوگا۔ موجودہ دنیا میں بھی اگر چہ تمام اچھی چیزیں موجود ہیں،

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader