Urdu book · اظہارِ دین

کائناتى معنویت کی توجیہ

Urdu book, p. 78

By Maulana Wahiduddin Khan

معرفت یہ ہے کہ آدمی ایک طرف اپنی محدودیت (limitation) کو جانے اور دوسری طرف وہ خدا کی لامود دیت کو دریافت کرے۔ اس دریافت کے نتیجے میں جو کیفیت آدمی کے اندر پیدا ہوتی ہے، اُسی کا نام معرفت ہے۔ یہ معرفت جس کو حاصل ہو جائے، اس کے لیے گویا دنیا اور آخرت کی تمام سعادتوں کے دروازے کھل گئے۔ یہی وہ خوش قسمت انسان ہے جس کے بارے میں آخرت میں کہا جائے گا کہ ــ تم جنت کے دروازوں میں سے جس دروازے سے چاہو، جنت میں داخل ہو جاؤ۔ آج کے بعد تمھارے لیے نہ کوئی خوف ہے اور نہ کوئی حزن۔ تسخیر کائنات انسان کے لیے اللہ کی ایک نعمت وہ ہے جس کو تسخیر کہا گیا ہے۔ اس سلسلے میں قرآن کی دو آیتیں یہ ہیں: اَللَّهُ الَّذِيْ سَخَّرَ لَكُمُ الْبَحْرَ لِتَجْرِيَ الْفُلْكُ فِيْهِ بِأَمْرِهِ وَلِتَبْتَغُوا مِنْ فَضْلِهِ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ 0 وَسَخَّرَ لَكُمْ مَّا فِي السَّمٰوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ جَمِيْعًا مِّنْهُ ۚ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّقَوْمٍ يَّتَفَكَّرُوْنَ (13-12 :45)۔ یعنی، اللہ ہی ہے جس نے تمھارے لیے سمندر کو مسخر کر دیا، تا کہ اس کے حکم سے اس میں کشتیاں چلیں اور تا کہ تم اس کا فضل تلاش کرو اور تا کہ تم شکر کرو۔ اور اللہ نے آسمانوں اور زمین کی تمام چیزوں کو تمھارے لیے مسخر کر دیا، سب کو اپنی طرف سے۔ بے شک اس میں نشانیاں ہیں اُن لوگوں کے لیے جو غور کرتے ہیں۔ تسخیر کا مطلب ہے کسی چیز کو بزور قابل استعمال یا قابل انتفاع بنانا۔ اللہ جو پوری کائنات کا خالق ہے، اس نے کائنات کے ہر جز کو قوانینِ فطرت (laws of nature) کا پابند بنا رکھا ہے۔ اس بنا پر یہ ممکن ہو گیا ہے کہ انسان مخلوقات کو اپنے مقصد کے لیے استعمال کرے۔ خدائی قوانین کے ذریعے کائنات اگر اس طرح مسخر نہ ہوتی تو انسان کے لیے اس کو استعمال کرنا ناممکن ہو جاتا۔ اس کی ایک مثال سمندر کی ہے۔ سمندروں کی شکل میں پانی کے جو قدرتی ذخائر ہیں، وہ کرۂ ارض کے تقریباً تہائی حصہ (71%) پر پھیلے ہوئے ہیں۔ زمین ایک گول کرہ ہے جو مسلسل طور پر گردش کر رہا ہے۔ ایک زبردست قانون پانی کے ذخائر کو زمین پر قائم کئے ہوئے ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page