کامیاب ازدواجی زندگی
Urdu book, p. 11
By Maulana Wahiduddin Khan
مرد دونوں شعوری یا غیر شعوری طور پر یہ محسوس کرنے لگتے ہیں کہ ان کا انتخاب درست نہ تھا۔ اس احساس کے آتے ہی دونوں کے درمیان اختلافات شروع ہو جاتے ہیں جس کا نتیجہ دو میں سے ایک کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔ تلخ ازدواجی زندگی یا طلاق۔ مگر یہ دونوں ہی یکساں طور پر غلط اور غیر فطری ہیں۔ ایک نوجوان سے گفتگو ہوئی، جس کا ذکر میں نے اپنی ڈائری 3 دسمبر 1985 میں ان الفاظ میں کیا ہے۔ "گفتگو کے دوران نوجوان نے اپنی شادی کا ذکر کیا۔ انھوں نے کہا کہ میری شادی میرے ماں باپ نے کر دی، مگر میری جو بیوی ہے، وہ مجھ کو پسند نہیں۔ میں نے کہا کہ سب سے زیادہ پسندیدہ شادی وہ ہے، جو نا پسندیدہ شادی ہو۔ میں نے کہا کہ میرے اس قول کو آپ لکھ لیجیے اور اس کو 20 برس بعد دیکھیے گا۔ کیوں کہ ان الفاظ کی معنویت کو آپ آج سمجھ نہیں سکتے۔ اس کی معنویت آپ کی سمجھ میں اس وقت آئے گی جب کہ میری طرح آپ کے بال سفید ہو چکے ہوں گے“۔ اصل یہ ہے کہ شوہر اور بیوی کے درمیان اختلاف کا سبب یہ نہیں ہوتا کہ دونوں کا انتخاب غلط تھا۔ اس کا سبب صرف یہ ہوتا ہے کہ دونوں فطرت کی ایک حقیقت کو سمجھنے میں ناکام رہے۔ وہ یہ کہ اختلاف زندگی کا ایک حصہ ہے، وہ کسی خاص عورت یا کسی مرد کا حصہ نہیں۔ یہی اس مسئلہ کا واحد حل ہے۔ عورت اور مرد دونوں اگر یہ سمجھ لیں کہ اُن کے ساتھ جو کچھ پیش آرہا ہے وہ خدا کے تخلیقی منصوبہ کی بنا پر پیش آرہا ہے، نہ کہ اُن کے غلط انتخاب کی بنا پر۔ اگر دونوں اس حقیقت کو سمجھ لیں تو ازدواجی زندگی کا مسئلہ اپنے آپ ختم ہو جائے گا۔ خالق نے خود اپنے تخلیقی منصوبہ کے مطابق، ہر دو انسان کے درمیان فرق رکھا ہے۔ اس مسئلہ کا حل فرق کو مٹانا نہیں ہے بلکہ اس کا حل یہ ہے کہ انسان اس ہنر کو جانے جس کو

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader