سوال و جواب
Urdu book, p. 146
By Maulana Wahiduddin Khan
طور پر یہ کرتے ہیں کہ وہ اچھی شکل وصورت والی لڑکی کے ساتھ بہت زیادہ لاڈ پیار (over-pampering) کا معاملہ کرتے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ لڑکی جب شادی کے بعد اپنی سسرال میں جاتی ہے تو وہ شعوری یا غیر شعوری طور پر وہاں بھی اپنے لیے لاڈ پیار والے سلوک کی امیدوار رہتی ہے۔ مگر فطری طور پر ایسا ہونا ممکن نہیں۔ اس لیے اس قسم کی لڑکیاں ہمیشہ پریشان رہتی ہیں۔ اس پریشانی کو دور کرنے کے لیے وہ بھاگ کر اپنے میکے جاتی ہیں جو کہ صرف ان کی پریشانی میں اضافے کا باعث بنتا ہے۔ اس مسئلے کا حل یہ ہے کہ میکے والے اور سسرال والے دونوں حقیقت پسندانہ انداز اختیار کریں۔ سوال میری عمر 29 سال ہے۔ شادی ہوئے قریب دو سال ہو گئے۔ ایک بچہ بھی ہے۔ میں ایک گاؤں میں رہتا ہوں۔ لیکن میری شادی شہر میں رہنے والی لڑکی سے ہوئی ہے۔ میری سمجھ میں میری بیوی کسی بھی طرح عقل مند نہیں ہے۔ ہمارے گھر والے اس کو بیٹی کی طرح مانتے ہیں۔ لیکن وہ جب سے میرے گھر آئی ہے، گھر والوں کے ساتھ اچھا برتاؤ نہیں کرتی۔ ذرا ذرا سی بات پر غصہ کرنے لگتی ہے اور کسی بات کا فوراً الٹا جواب دے دیتی ہے۔ اس کے ذہن میں ذرا سا بھی اس بات کا اثر نہیں رہتا کہ ہم سسرال میں ہیں اور سسرال والوں کے ساتھ کس طرح پیش آنا چاہیے۔ یہاں تک کہ میرے ساتھ بھی الٹی سیدھی بات بول جاتی ہے۔ لاکھ سمجھاؤ لیکن وہ اپنی عادت سے باز نہیں آتی۔ ایسا بھی نہیں کہ وہ امیر باپ کی بیٹی ہے۔ بلکہ مالی اعتبار سے ہم دونوں گھر والے یکساں ہیں۔ آخر یہ اس کی نادانی ہے یا اس کا غرور کہ گھر میں کسی کو کچھ نہیں سمجھتی، حالاں کہ کئی بار ہم نے اس کو مارا بھی۔ لیکن پھر بھی اس کی عادت میں ذرا سا سدھار پیدا نہیں ہوا۔ میں سوچتا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader