Urdu book · کامیاب خاندانی زندگی

کامیاب خاندانی زندگی

Urdu book, p. 20

By Maulana Wahiduddin Khan

نے نہیں دیکھا کہ عقل اور دین میں ناقص ہونے کے باوجود ایک عورت عقل والے مرد کی عقل پر غالب آجائے۔ عورت کے بارے میں ناقص کا لفظ قرآن میں کہیں نہیں آیا ہے۔ اس لیے اس حدیث کا لفظی معنی نہیں لیا جائے گا بلکہ اس کی تاویل کی جائے گی۔ اصل یہ ہے کہ اس حدیث میں ناقص، کم ہونے کے معنی میں نہیں ہے۔ بلکہ فرق (different) کے معنی میں ہے۔ اصل یہ ہے کہ خالق کے تخلیقی نقشے کے مطابق، عورت اور مرد دونوں کے درمیان تخلیقی فرق رکھا گیا ہے۔ مگر یہ فرق رتبہ کے اعتبار سے نہیں ہے، بلکہ رول کے اعتبار سے ہے۔ کیوں کہ سماج میں عورت اور مرد کا رول تخلیقی نقشے کے مطابق ایک درجے میں الگ الگ ہے۔ اس لیے دونوں کے درمیان ان کے رول کے مطابق فرق رکھا گیا ہے۔ اسلام کی تعلیم کے مطابق، عورت اور مرد کے درمیان رتبہ (status) کے اعتبار سے کوئی فرق نہیں، دونوں یکساں طور پر آدم کی اولاد ہیں۔ لیکن سماج میں ہمیشہ مختلف قسم کے کام ہوتے ہیں۔ سماج کا ہر کام نہ ہر مرد کر سکتا ہے، اور نہ ہر عورت۔ صحیح طریقہ یہ ہے کہ ہر عورت یا ہر مرد کو اس کی صلاحیت یا استعداد کے اعتبار سے کام دیا جائے۔ اس طرح ہر کام معیاری درجے میں انجام پائے گا۔ اس کے برعکس، اگر ہر عورت اور ہر مرد کو ایک ہی کام میں لگا دیا جائے تو کوئی بھی کام اعلیٰ صورت میں انجام نہیں دیا جاسکتا۔ اس بنا پر اسلام میں عورت اور مرد کے درمیان تقسیم کار کے اصول کو اختیار کیا گیا ہے، نہ کہ یکسانیت کار کے اصول کو۔ تاریخ کے ہر دور میں عملاً عورت اور مرد کے درمیان یہ اصول اختیار کیا گیا ہے۔ ازدواجی زندگی قرآن کی سورہ البقرہ میں ازدواجی زندگی کے بارے میں ایک تعلیم ان الفاظ میں آئی ہے: نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَّكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّى شِئْتُمْ ۙ وَقَدِّمُوا لِأَنْفُسِكُمْ ۭ وَاتَّقُوا اللَّهَ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page