ازدواجی زندگی
Urdu book, p. 22
By Maulana Wahiduddin Khan
کمی نہیں ہے، بلکہ اس کا سبب یہ ہے کہ مرد نے عورت کو اس حیثیت سے تیار نہیں کیا کہ وہ اُس کے لیے طویل تر زندگی میں اس کی فکری رفیق بن سکے۔ قرآن کی مذکورہ آیت میں 'حرث' (field) کا لفظ استعمال اول کے لحاظ سے عورت کی فطری حیثیت کو بتاتا ہے۔ اس کے بعد یہ الفاظ ہیں کہ ــ 'تم اپنی کھیتی میں جس طرح چاہو، جاؤ'۔ اس کا مطلب اصلا بیوی اور خاوند کے تعلق کی نوعیت کو بتانا نہیں، بلکہ اس میں یہ اشارہ ہے کہ یہ معاملہ تمھارے فطری ذوق سے تعلق رکھتا ہے، اس معاملے میں خود تمھارا فطری ذوق رہنمائی کے لیے کافی ہے۔ زیر بحث معاملے میں، اصل قابل لحاظ بات یہ ہے کہ ــ تم اپنے لیے آگے بھیجو۔ یعنی تم عورت کو اس کے استعمال ثانی (فکری رفاقت) کے لحاظ سے تیار کرو۔ اس تعلق کو تم اپنے مستقبل کی تعمیر کا ذریعہ بناؤ۔ حقیقت یہ ہے کہ مرد اگر صحیح معنوں میں اپنی بیوی کو فکری رفیق کی حیثیت سے تیار کرے تو بیوی کی صورت میں وہ اپنے لیے ایک ایسا دانش مند ساتھی پا لے گا جو ہر لمحہ اُس کے پاس تبادلہ خیال کے لیے موجود ہو۔ اس قسم کا ایک ساتھی بلاشبہ کسی شخص کے لیے نہایت قیمتی سرمایے کی حیثیت رکھتا ہے۔ بیوی کے بارے میں عام تصور یہ ہے کہ وہ اپنے خاوند کی ہوم پارٹنر (home partner) ہے، مگر یہ عورت کا ایک کم تر تصور ہے۔ عورت اُسی طرح اللہ کی ایک تخلیق ہے جس طرح مرد اللہ کی تخلیق ہے۔ تخلیقِ خداوندی کے شایان شان تصور یہ ہے کہ عورت کو مرد کا لائف پارٹنر (life partner) سمجھا جائے۔ گھر کے محدود تصور سے بلند ہو کر زندگی کے وسیع تر تصور کے مطابق، عورت کو اپنا شریکِ حیات بنایا جائے۔ عورت اور مرد دونوں کو چاہیے کہ وہ اپنے آپ کو اس وسیع تر تصور کے مطابق تیار کریں۔ خدا کے تخلیقی نقشہ (creation plan) کے مطابق، انسان کی زندگی دنیا سے لے کر آخرت تک پھیلی ہوئی ہے۔ قبل از موت مرحلہ حیات میں انسان کو اس طرح

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader