رفاقت، نہ کہ مساوات
Urdu book, p. 35
By Maulana Wahiduddin Khan
حدیث رسول سے معلوم ہوتی ہے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اَلنِّكَاحُ مِنْ سُنَّتِی (سنن ابن ماجه، حديث نمبر 1846 )۔ یعنی نکاح میری سنت ہے۔ اس حدیث کے مطابق، نکاح ایک سنت رسول ہے۔ لیکن گہرے معنی کے اعتبار سے اس کا مطلب یہ ہے کہ نکاح اللہ کی ایک سنت ہے۔ یعنی نکاح کا طریقہ خدا کے نقشہ تخلیق (creation plan of God) کے مطابق ہے۔ اس لیے نکاح کو اس کے وسیع ترمعنی میں لینا چاہیے۔ نکاح کرنے والے کو یہ سمجھنا کہ وہ وسیع تر معنی میں خدا کے نقشہ تخلیق کا ایک حصہ بن رہا ہے۔ موجودہ حالت یہ ہے کہ نکاح کے دونوں پارٹنر نکاح کو اپنے اپنے مائنڈ سیٹ (mindset) کے مطابق لیتے ہیں۔ اگر وہ حقیقت پسند ہوں تو وہ نکاح کو خدا کے مائنڈ سیٹ کے مطابق لیں گے اور پھر ان کی شادی شدہ زندگی درست لائن پر چلنے لگے گی ۔ اور پھر ان کی زندگی کے تمام معاملات فطرت کے نقشے پر قائم ہو جائیں گے ۔ اور زندگی کو فطرت کے نقشے پر چلانا یہی کامیابی کا سب سے بڑا راز ہے۔ موجودہ زمانے میں عورت اور مرد کے معاملے میں سب سے بڑا نظریہ عورت اور مرد کے مساوات (gender equality) کو سمجھا جاتا ہے۔ مگر اس معاملے کا کلیدی اصول صنفی مساوات نہیں ہے بلکہ صنفی رفاقت ہے۔ نکاح کے ذریعے ایسا نہیں ہوتا کہ دو مساوی صنفیں یکجا ہو جائیں۔ بلکہ یہ ہوتا ہے کہ دو مختلف صلاحیتیں رکھنے والی صنفیں یکجا ہو جاتی ہیں ۔ یہ فطری تقسیم کا معاملہ ہے۔ اور ایسا اس لیے ہے کہ دو مختلف صلاحیتیں باہمی رفاقت سے زندگی کا نظام زیادہ بہتر طور پر چلا سکیں۔ یہ معاملہ گاڑی جیسا ہے۔ گاڑی ہمیشہ دو پہیوں پر چلتی ہے۔ اسی طرح فطرت کے قانون کے مطابق، زندگی کا نظام بھی دو افراد کی شرکت پر چلتا ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader