Urdu book · کامیاب خاندانی زندگی

کامیاب خاندانی زندگی

Urdu book, p. 51

By Maulana Wahiduddin Khan

ویسا دیکھنا چاہتے ہیں، جیسا کہ وہ ان کے دماغ میں بسا ہوا ہے۔ اس معاملے میں وہ وقت کے عامل (factor) کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ حالاں کہ یہ ایک معلوم بات ہے کہ کوئی چیز وقت سے پہلے کسی کو نہیں ملتی۔ عورت اور مرد دونوں کو جاننا چاہیے کہ اس دنیا میں ایسا نہیں ہو سکتا کہ جو چیز کل ملنے والی ہے وہ آج ہی آپ کو مل جائے۔ نکاح کے بعد جب ایک عورت اور ایک مرد ایک گھر میں اکٹھا ہوتے ہیں تو یہ دونوں کے لیے ایک نیا تجربہ ہوتا ہے۔ دونوں فطری طور پر ایک دوسرے سے سیکھنا چاہتے ہیں۔ دونوں فطری طور پر اپنے آپ کو ایک دوسرے کے مطابق بنانا چاہتے ہیں۔ یہ فطری عمل نکاح کے پہلے دن سے شروع ہو جاتا ہے۔ زوجین کا کام یہ ہے کہ وہ اس فطری عمل (process) کو جاری رکھنے میں مددگار بنیں۔ وہ ایسا کوئی کام نہ کریں جو اس فطری عمل کو درہم برہم کرنے والا ہو۔ انتظار کا مقصد اسی فطری عمل میں مدد دینا ہے۔ انتظار کا مقصد یہ ہے کہ فطری عمل بلا روک ٹوک جاری رہے۔ یہاں تک کہ وہ اپنی آخری حد پر پہنچ جائے۔ انتظار ایک عمومی اصول ہے۔ اس کا تعلق ہر بڑی کامیابی سے ہے۔ یہی اصول شوہر اور بیوی کے معاملے میں بھی درست ہے۔ آپ صرف یہ کیجیے کہ انتظار کیجیے، اور اس کے بعد آپ کو یقینی طور پر اپنی مطلوب چیز مل جائے گی۔ یہ فطرت کا قانون ہے اور اس دنیا میں فطرت کے قانون سے بڑا کوئی قانون نہیں۔ عدم مداخلت کی پالیسی میں نے ایک تعلیم یافتہ شخص سے پوچھا کہ آپ کی ازدواجی زندگی کیسی ہے، خوش گوار یا ناخوش گوار۔ انہوں نے کہا کہ میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ میری ازدواجی زندگی پوری طرح ایک

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page