Urdu book · کاروانِ ملّت

مسائل ملت

Urdu book, p. 119

By Maulana Wahiduddin Khan

کا ایک پہلو ہمیشہ موجود رہتا ہے۔ چنانچہ اکثر لوگ اس شبہ والے پہلو میں اٹک کر رہ جاتے ہیں ۔ ہدایت کے واضح ہونے کے باوجود وہ اس کو اپنی زندگی میں اختیار نہیں کر پاتے۔ دورِ اول کی مثال اس سلسلہ میں ایک مثال لیجئے ۔ قدیم مکہ میں ایک شخص تھا۔ اس کا نام روایات میں الحارث بن عثمان بن نوفل بن عبد مناف بتایا گیا ہے۔ اس کے سامنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب توحید کی دعوت پیش تو اس نے اپنی قوم کی نمائندگی کرتے ہوئے آپ سے کہا: انا لنعلم ان الذی تقول حق ولكنا ان ہم جانتے ہیں کہ آپ جو کچھ کہتے ہیں وہ بلاشبہ حق اتباعك خفنا ان تخرجنا العرب من ہے۔ لیکن اگر ہم آپ کی پیروی کریں تو ہم کو ڈر ہے ارض مكة (التفسير المظهری ۱۷/۷) کہ عرب ہم کو مکہ کی سر زمین سے نکال دیں گے۔ شان نزول کی روایات کے مطابق، قرآن کی سورہ نمبر ۲۸ میں اس کا جواب دیا گیا ہے۔ ارشاد ہوا ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ اگر ہم آپ کے ساتھ اس ہدایت کی پیروی کریں تو ہم کو ڈر ہے کہ ہم کو ہماری زمین سے اُچک لیا جائے گا وَقَالُوا إِن نَّتَّبِعِ الْهُدَى مَعَكَ نُتَخَطَّفْ مِنْ أَرْضِنَا ، القصص ، ۵) قدیم مکہ میں وہاں کے لوگوں کی سرداری اور معاش دونوں کا خاص ذریعہ شرک تھا۔ انھوں نے یہ کیا تھا کہ مکہ کے تمام قبیلوں کا بت کعبہ میں رکھ دیا تھا۔ چنانچہ کعبہ میں ۳۶۰ مختلف بت جمع ہو گئے تھے۔ اس طرح مکہ کے لوگوں کو عرب کے تمام قبیلوں کی سرداری حاصل ہو گئی ۔ اسی کے ساتھ ان کو یہ معاشی فائدہ بھی تھا کہ عرب کے مختلف قبیلے اپنے اپنے بتوں پر نذر چڑھانے کے لئے مکہ آتے تھے۔ یہ تمام نذرانے مکہ والوں کو ملتے تھے۔ اس طرح شرک مکہ والوں کے لئے بیک وقت قیادت کا ذریعہ بھی تھا اور معاشیات کے حصول کا ذریعہ بھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ایک خدا کا پیغام ان کے سامنے پیش کیا تو ان کی فطرت نے اس کے برحق ہونے کی تصدیق کی۔ مگر ان کا ذہن اس سوال میں اٹک گیا کہ اگر وہ یہ کہیں کہ خدا صرف ایک ہے۔ بقیہ تمام دیوتا فرضی ہیں ، تو وہ اچانک تمام مشرک قبائل سے کٹ جائیں گے۔ اس کے بعد ان کی سرداری بھی ان سے چھن جائے گی اور ان کی معاش بھی۔ ہدایت کے واضح ہونے کے باوجود ایک شبہہ ان کے لئے قبولیت کی راہ میں رکاوٹ بن گیا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page