اوصاف انسانی
Urdu book, p. 138
By Maulana Wahiduddin Khan
اس پر قبضہ حاصل کر لیا۔ بنی اسرائیل کے بچوں میں یہ طاقت کیسے پیدا ہوئی ۔ وہ بے حوصلہ سے با حوصلہ کیوں کر بن گئے۔ اس کا سبب یہ تھا کہ انہوں نے اپنے باپ دادا کے برعکس ، لمبی مدت تک صحرائی زندگی کی مشقتوں کو برداشت کیا۔ بچوں کے باپ جن سخت حالات کو اپنے بچوں کے حق میں موت سمجھتے تھے، انھیں سخت حالات کے اندر داخل ہونے میں ان بچوں کے لیے نئی زندگی کا راز چھپا ہوا تھا۔ موافق حالات میں زندگی گزارنا بظاہر اچھا معلوم ہوتا ہے۔ مگر موافق حالات ہمیشہ جمود پیدا کرتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ آدمی کے اندر تمام اعلیٰ خصوصیتیں اس وقت پیدا ہوتی ہیں جب کہ اس کو حالات کا مقابلہ کر کے زندہ رہنا پڑے۔ مصر میں بنی اسرائیل صدیوں تک عافیت کی زندگی گزارتے رہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ ایک مردہ قوم بن گئے۔ مگر مصر سے خروج کے بعد ان کو غیر آباد صحرا میں زندگی گزارنی پڑی۔ یہ صحرائی زندگی ان کے لیے سراپا چیلنج تھی۔ ان پر مشقت حالات میں جو لوگ بچپن سے جوانی کی عمر کو پہنچے وہ تدریجی طور پر بالکل دوسری قسم کے انسان تھے۔ بنی اسرائیل کی یہ نسل اخلاق و کردار کے اعتبار سے اپنے باپ دادا سے بالکل مختلف تھی۔ صحرائی حالات نے ان کے اندر سادگی، جفا کشی، حوصلہ اور حقیقت پسندی جیسی خصوصیات پیدا کر دی تھیں ۔ اور بلاشبہ یہی وہ اوصاف ہیں جو کسی قوم کے افراد کو زندہ افراد بناتے ہیں۔ کوئی قوم اگر طول امد (الحدید ۱۶) کے نتیجہ میں مردہ قوم بن جائے تو اس کو دوبارہ زندہ قوم بنانے کی تدبیر یہی ہے کہ اس کو غیر معمولی حالات میں ڈالا جائے ۔ اور اس کو ایسے شدید عمل سے گزارا جائے جس کے دوران اس کی سابقہ غیر مطلوب شخصیت ختم ہو اور نئی مطلوب شخصیت ابھر آئے۔ کسی مقصد کے حصول کے لیے افراد کار کی اہمیت اتنی زیادہ ہے کہ اگر مطلوب افراد موجود نہ ہوں تو خدا کا آیا ہوا حکم اقدام بھی ملتوی کر دیا جاتا ہے۔ جیسا کہ اوپر سے واقعہ سے ظاہر ہوتا ہے۔ جب ضروری افراد تیار نہ ہوں اس وقت بڑے بڑے اقدامات کی بات کرنا صرف غیر سنجیدگی کی علامت

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader