Urdu book · کاروانِ ملّت

اوصاف انسانی

Urdu book, p. 140

By Maulana Wahiduddin Khan

بند۔ اس دس سال میں انتظام کروں گا مسلمانوں کو مسلمان بنانے کے اور ان کی اصلاح کے لئے باقاعدہ انتظام ہوگا۔ غرض کہ مکمل انتظام کے بعد جو مناسب ہوگا حکم دوں گا۔ عملی صورت یہ ہے کام کرنے کی۔ اور اگر محض کاغذی امیر المومنین بنانا چاہتے ہو تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ آج امیر المومنین ہوں گا کل کو اسیر الکافرین ہوں گا۔ آج سردار بنوں گا ، کل سردار ہوں گا۔“ مولا نا تھانوی اس کے بعد کہتے ہیں : ” خلاصہ یہ ہے کہ ہر کام اصول سے ہوتا ہے ۔ بے اصول تو گھر کا انتظام بھی نہیں ہوسکتا۔ ملک کا تو کیا خاک انتظام ہوگا۔ یہ ہیں وہ اصولی باتیں جن پر مجھ کو برا بھلا کہا جاتا ہے اور قسم قسم کے الزامات و بہتان میرے سر تھوپے جاتے ہیں اور لوگ مجھ سے خفا ہیں۔ اور وجہ خفا ہونے کی صرف یہ ہے کہ میں کہتا ہوں کہ اصول کے ماتحت کام کرو۔ جوش سے کام مت لو۔ ہوش سے کام لو۔ جوش کا انجام خراب نکلے گا۔ حدود شرعیہ کی حفاظت رکھو ۔ وہ ان باتوں کو اپنے مقاصد میں روڑا اٹکانا سمجھتے ہیں ۔“ (الافاضات الیومیہ ، جلد اول ، صفحہ ۱۰۴ - ۱۰۱) مولانا تھانوی کی ان انتہائی معقول باتوں کو کسی نے نہیں سنا۔ تمام مسلمان پر جوش خطیبوں کی آواز پر بے معنی دوڑ لگاتے رہے۔ اپنے زمانہ کے مسلمانوں کی تصویر کشی کرتے ہوئے مولانا تھانوی کہتے ہیں : بسلم عوام کی حالت یہ ہے کہ جس نے مرضی کے موافق فتویٰ دے دیا ، یا کوئی عالم یا لیڈر ان کے ساتھ ہو لیا ، اس میں سب کمالات ہیں۔ اس کو عرش پر پہنچا دیں گے۔ اگر کسی نے مرضی کے خلاف کوئی بات کی تو تحت الثریٰ میں اس کو جگہ ملنا مشکل ۔ غرض کہ ایک گڑھ بڑ ہے۔ اور یہ طریقہ کار جو موجود ہے ، یہ سراسر اسلام اور شریعت سب کے خلاف ہے ۔ اس کو اسلام اور مسلمانوں سے کیا تعلق صفحہ ۱۱۱) اس واقعہ سے ان لوگوں کو سبق لینا چاہئے جو یہ کہتے ہیں کہ مسلمانوں کا کوئی صحیح لیڈر نہیں۔ اصل بات یہ نہیں ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ مسلمان اپنے بگڑے ہوئے مزاج کی بنا پر کسی صحیح آدمی کو اپنا لیڈر نہیں بناتے ۔ وہ جھوٹے الفاظ بولنے والوں کے پیچھے دوڑتے ہیں ، اور جو آدمی سچے الفاظ بولے، اس سے انھیں کوئی دل چسپی نہیں ہوتی۔ آج مسلمانوں کا حال ، قرآن کے مطابق ، یہ ہو رہا ہے کہ اگر ہدایت کا راستہ دیکھیں تو اس کو اپنا راستہ نہ بنائیں گے اور اگر گمراہی کا راستہ دیکھیں تو اس کو اپنا راستہ بنالیں گے (الاعراف ۱۴۶) قوموں کی قیادت کے سلسلہ میں اصل مسئلہ رہنما فرد کی موجودگی کا نہیں ہے۔ بلکہ خود قوم کے اندر

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page