صبر کا ہتھیار
Urdu book, p. 151
By Maulana Wahiduddin Khan
آنے کے بعد آدمی اپنے حواس کو نہ کھوئے ۔ خدا جلدی نہیں چاہتا ایک شخص اپنے عیسائی دوست سے ملنے گیا۔ جب وہ دوست کے یہاں پہنچا تو اس نے دیکھا کہ وہ اپنے گھر کے سامنے بے تابی کے ساتھ ٹہل رہے ہیں۔ " آج میں آپ کو پریشان دیکھ رہا ہوں ، آخر کیا بات ہے۔" اس نے پوچھا۔ عیسائی دوست اچانک سنجیدہ ہوگئے۔ انھوں نے کہا: I am in hurry, but God isn't میں جلدی چاہتا ہوں۔ مگر خدا جلدی نہیں چاہتا۔ اس کے بعد انھوں نے اپنے صحن میں ایک مرجھائے ہوئے آم کے درخت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا : میں نے اس کو بڑی امیدوں کے ساتھ پچھلے ہفتہ لگایا تھا۔ مگر اب وہ سوکھ کر ختم ہو چکا ہے۔ " یہ درخت تو کافی بڑا ہے ، پھر ایک ہفتہ پہلے کیسے آپ نے اس کو لگایا تھا۔" آدمی نے پوچھا۔ " یہی تو اصل بات ہے" عیسائی دوست نے کہا " میں نے چاہا کہ میں اچانک ایک بڑا درخت اپنے یہاں کھڑا کر دوں۔ مگر خدا کی اس دنیا میں ایسا ہو نا ممکن نہیں۔ میں نے آم کا چھوٹا پودا لانے کے بجائے یہ چاہا کہ پانچ سال کا درخت لاکر اپنے صحن میں لگاؤں اور اس طرح پانچ سال کا سفر ایک دن میں طے کرلوں ۔ میں نے درخت تو کہیں نہ کہیں سے لاکر لگالیا۔ مگر وہ اگلے ہی دن سوکھ گیا۔ اور اب اس کی جو صورت ہے وہ تم اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہو۔ اس کے بعد عیسائی دوست نے کہا: اس دنیا میں کسی چیز کو وجود میں لانے کے لئے خدا کا ایک قانون ہے۔ ہم اس قانون کی پیروی کر کے ہی اس چیز کو اپنے لئے وجود میں لا سکتے ہیں۔ اگر ہم قدرت کے اصول کی پیروی نہ کریں اور اپنی خواہشوں پر چلنے لگیں تو ہمارے حصہ میں " سوکھا درخت " آئے گا نہ کہ " ہرا بھرا باغ "۔ لکڑی کی ایک کشتی کی تاریخ اگر چھوٹے پودے سے شروع کی جائے تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ ہر کشتی والا انتظار کرتا ہے کہ قدرت ایک درخت اگائے۔ زمین و آسمان کے تمام انتظامات

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader