صبر کا ہتھیار
Urdu book, p. 153
By Maulana Wahiduddin Khan
اللہ تعالیٰ نے دنیا کا نظام اس طرح بنایا ہے کہ یہاں عُسر میں یُسر ہے۔ یہاں ہر ڈرس ایڈوانٹیج کے ساتھ ہمیشہ ایڈوانٹیج موجود ہوتا ہے۔ قرآن میں ارشاد ہوا ہے : الم نشرح لک صدرک ووضعنا عنک وزرک الذی انقض ظهرک ورفعنا لک ذکرک فإن مع العسر یسراً ان مع العسر یسراً فا إذا فرغت فانصب و الی ربک فارغب کیا ہم نے تمہارا سینہ تمہارے لئے کھول نہیں دیا۔ اور تمھارا وہ بوجھ اتار دیا جو تمھاری پیٹھ کو توڑ رہا تھا ۔ اور ہم نے تمہارا ذکر بلند کیا۔ پس مشکل کے ساتھ آسانی ہے، بے شک مشکل کے ساتھ آسانی ہے۔ پس جب تم فارغ ہو جاؤ تو محنت کرو، اور اپنے رب کی طرف توجہ رکھو (الانشراح) یہ سورہ مکہ کے ابتدائی زمانہ میں اتری۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ میں جب دعوت توحید کا آغاز کیا تو یہ ان تمام لوگوں کو دینی لحاظ سے غیر معتبر ٹھہرانے کے ہم معنی تھا جو غیر اللہ کی بنیاد پر بڑائی اور سرداری کا مقام حاصل کئے ہوئے تھے۔ چنانچہ یہ لوگ آپ کے سخت دشمن ہو گئے ۔ وہ آپ کو طرح طرح کی اذیتیں پہنچانے لگے۔ اس صورت حال نے آپ کو سخت پریشانی میں مبتلا کر دیا۔ اس وقت اس سورہ کے ذریعے آپ کو ایک سنت الہی سے باخبر کیا گیا۔ وہ یہ کہ اس دنیا میں یُسر کا رشتہ عُسر سے بندھا ہوا ہے۔ اس دنیا میں مشکل کا پیش آنا کسی نئی آسانی کی تمہید ہوتا ہے ، بشرطیکہ آدمی حوصلہ نہ کھوئے اور آنے والے بہتر مستقبل کا انتظار کر سکے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نبوت سے پہلے یہ مرحلہ گزرا کہ آپ حق کی تلاش میں سخت سرگرداں ہوئے۔ وقت کے ماحول اور مردہ مذہب میں آپ کو اطمینان نہیں مل رہا تھا۔ ” سچائی کیا ہے؟“ اس سوال نے آپ کی راتوں کی نیند اور دن کا سکون غارت کر دیا۔ یہ اضطراب اگرچہ ابتداً ” عُسر“ تھا ، مگر اس کے اندر ” یُسر“ کا پہلو نکل آیا۔ کیوں کہ اس نے آپ کو خشک زمین کی مانند بنا دیا تاکہ جب وحی کی صورت میں ہدایت آئے تو اس کی ایک ایک بوند آپ کے اندر جذب ہوتی چلی جائے۔ آپ بھر پور طور پر اس کو اخذ کر لیں۔ وہ پوری طرح آپ کے ذہن کو واضح اور روشن کر دے۔ دوسری چیز جو مذکورہ سنت کے لئے بطور مثال پیش کی گئی ، وہ رفع ذکر کا معاملہ ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت توحید سے جن لوگوں کو مخالفت پیدا ہوئی، انھوں نے اس کو ناکام

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader