Urdu book · کاروانِ ملّت

امن اور ترقی کی طرف

Urdu book, p. 144

By Maulana Wahiduddin Khan

مسلمان اگر صبر و اعراض کا ایک طرفہ طریقہ اختیار کر کے باہمی نفرت کی فضا کو ختم کر دیں تو اس کا لازمی نتیجہ یہ ہو گا کہ اسلام اپنے آپ پھیلنے لگے۔ یہاں تک کہ وہ وقت آئے گا جب کہ دنیا یہ منظر دیکھے گی کہ حدیبیہ پرنسپل کو اختیار کرنے کے نتیجہ میں وہی واقعہ دوبارہ تاریخ میں پیش آگیا ہے جو دور اول میں اس اصول کو اختیار کرنے کے نتیجہ میں پیش آیا تھا۔ تاریخ اپنے آپ کو دہرانے کے لئے تیار ہے، بشرطیکہ مسلمان اس حوصلہ مندی کا ثبوت دے سکیں کہ وہ دوبارہ اس فاتحانہ تدبیر کو دہرانے کے لئے تیار ہیں جو ان کے پیش روؤں نے چودہ سو سال پہلے دہرایا اور بظاہر شکست کے بعد وہ چیز حاصل کر لی جس کو قرآن میں فتح مبین کہا گیا ہے۔ حدیبیہ پرنسپل کو اختیار کرنا کوئی سادہ سی بات نہیں، موجودہ حالات میں یہ مسلمانوں کے لئے ہم خراما وہم ثواب کے ہم معنی ہے ــــــــ اس کے ذریعہ ایک طرف وہ اپنی دنیاوی زندگی کی تعمیر کے مواقع پالیں گے، وہ اس قابل ہو جائیں گے کہ ملک کے وسائل کو بھر پور طور پر اپنے حق میں استعمال کر کے اپنے آپ کو خوش حال اور ترقی یافتہ بنا سکیں۔ دوسری طرف یہ تدبیر ملک میں اشاعت اسلام کے بند دروازے کو کھول دے گی۔ اس کے بعد اسلام اپنے آپ اس ملک میں پھیلنے لگے گا جس طرح موجودہ قومی جھگڑوں سے پہلے وہ مسلسل یہاں پھیل رہا تھا۔ قرآن میں " حدیبیہ پرنسپل " کا یہ فائدہ بتایا گیا ہے کہ اس کے ذریعہ سے فتح مبین بھی ملتی ہے اور اللہ کی مغفرت بھی حاصل ہوتی ہے (الفتح ۱- ۲) یہ اسلامی اصول آج دوبارہ مسلمانوں کو پکار رہا ہے اور انھیں بشارت دے رہا ہے کہ اگر تم نے اس کو صحیح طور پر اختیار کر لیا تو وہ تمہاری دنیا کی کامیابی کا بھی ضامن ہے اور اسی کے ساتھ آخرت کی کامیابی کا ضامن بھی۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page