Urdu book · کاروانِ ملّت

اسلامی دعوت بدلتی ہوئی دنیا میں

Urdu book, p. 228

By Maulana Wahiduddin Khan

تعبیر کرنے کے خواب کو برباد کر دیا۔ جاپان کی غیر متوقع اقتصادی طاقت نے مغرب کی فوجی طاقت کو غیر موثر بنا دیا۔ انسانی ساخت کے تمام نظریات اپنے تجربہ میں غیر معتبر قرار پاگئے ۔ مادی ترقیاں انسان کی روح کو مطمئن کرنے میں نا کام ثابت ہوئیں ۔ وغیرہ ناکامیوں کی اس فہرست میں سب سے اہم اور دور رس نتائج والی ناکامی وہ ہے جو فکری سطح پر پیش آئی ہے۔ انیسویں صدی کے نصف آخر اور بیسویں صدی کے نصف اول میں اہل مغرب نے یہ یقین کر لیا تھا کہ ان کی سائنس ان کے لئے الہامی مذہب کا بدل ہے۔ سائنس فکری اعتبار سے انھیں وہ سب کچھ دے سکتی ہے جس کی امید مذہب سے کی جاتی ہے۔ مگر موجودہ صدی کے آخر میں پہنچ کر اصل سائنس نے آخری طور پر اپنے اس یقین کو کھو دیا ہے۔ اب انسان دوبارہ وہاں کھڑا ہے جہاں اس کو فکری اعتقاد اور نظریاتی یقین کے لئے دوبارہ اسی چیز کی ضرورت ہے جس کو مذہب کہا جاتا ہے۔ سائنس کی اس ناکامی پر موجودہ زمانہ میں کثیر تعداد میں کتابیں چھپی ہیں۔ ان کتابوں کا مشترک خلاصہ یہ ہے کہ سائنس کی تمام تحقیقات نے اس کو اس مقام پر پہنچایا ہے کہ انسان جو کچھ جاننا چاہتا ہے، وہ اس کو سائنسی مطالعہ کے ذریعہ نہیں جان سکتا۔ موجودہ صدی کے آغاز میں انسان نے ”انسائیکلو پیڈیا آف نالج“ چھاپی تھی، اب موجودہ صدی کے خاتمہ پر وہ قاموس جہالت (Encyclopaedia of Ignorance) چھاپ رہا ہے۔ یہاں میں ایک کتاب کا حوالہ دوں گا جو ۱۹۸۹ میں نیو یارک سے چھپی ہے۔ اس کتاب کے مصنف اسٹیفن ہاکنگ (Stephen W. Hawking) ہیں۔ وہ کیمبرج یونیورسٹی میں میتھمیٹکس کے پروفیسر ہیں۔ میتھمیٹکس کی یہ چیر نیوٹن کے نام پر قائم کی گئی ہے۔ عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ آئن سٹائن کے بعد وہ نظریاتی طبیعیات میں سب سے زیادہ ممتاز سائنس داں ہیں۔ انھوں نے اپنی کتاب وقت کی مختصر تاریخ (A Brief History of Time) کو ان سطروں سے شروع کیا ہے: ایک مشہور سائنس داں (کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ برٹرینڈ رسل) نے ایک بار فلکیات پر ایک عوامی لکچر دیا۔ اس نے بتایا کہ زمین کس طرح سورج کے گرد گھومتی ہے اور پھر سورج کس طرح کہکشاں کے مرکز کے گرد گھومتا ہے جو کہ بہت سے ستاروں کا ایک مجموعہ ہے۔ لکچر کے آخر میں ایک چھوٹی بوڑھی عورت کمرہ کے پچھلے حصہ سے اٹھی اور کہا۔ جو کچھ تم نے ہمیں بتایا وہ لغو ہے۔ زمین در حقیقت ایک

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page