آغاز کلام
Urdu book, p. 5
By Maulana Wahiduddin Khan
آغاز کلام ایک مرتبہ میری ملاقات ایک مسلمان آئی اے ایس سے ہوئی ۔ انھوں نے کہا : میں نے آپ کی کتابیں پڑھی ہیں۔ مجھے آپ سے سخت اختلاف ہے۔ آپ اسلام کو اور مسلمان کو الگ الگ سمجھتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ آپ ہی جیسے مولناؤں نے اسلام کو برباد کیا ہے۔ یہ بات بظاہر بہت عجیب معلوم ہوتی ہے۔ لیکن گہرائی کے ساتھ دیکھیے تو یہی موجودہ زمانہ کے تمام مسلمانوں کا عقیدہ ہے۔ وہ خواہ مذکورہ قسم کے الفاظ نہ بولیں مگر عملاً ان کا خیال یہی ہے کہ مسلمانوں ہی کا دوسرا نام اسلام ہے، اور مسلمان جو کچھ کریں، اپنے آپ وہ اسلام بن جائے گا۔ اس کی ایک واضح علامت یہ ہے کہ اگر مسلمانوں کے کسی کام (مثلاً عدو اقوام سے ان کی لڑنے بھڑنے کی سیاست) کو غلط بتایا جائے تو وہ فوراً بگڑ جائیں گے ۔ ان کی اس روش کے خلاف قرآن وحدیث سے خواہ کتنے ہی زیادہ دلائل دیے جائیں مگر وہ اس پر غور کرنے کے لیے تیار نہ ہوں گے ۔ وہ سارے دلائل و حقائق کو یہ کہہ کر نظر انداز کر دیں گے کہ تم مسلم دشمن طاقتوں کے ایجنٹ ہو، تم مسلم مفاد کے خلاف کام کر رہے ہو۔ یہ واقعہ اس بات کا ثبوت ہے کہ موجودہ زمانہ کے مسلمان یہ سمجھتے ہیں کہ وہ جو کچھ کریں، اسی کا نام اسلام ہے۔ ایسے مسلمان کم ملیں گے جو اپنی زبان سے مذکورہ مسلمان آئی اے ایس جیسا کلمہ بولیں مگر ہر مسلمان عملاً یہی کہہ رہا ہے کہ ہم کو اسلام پر نہ جانچو بلکہ خود اسلام کو ہمارے اوپر جانچو۔ زیر نظر کتاب کے مرتب کو موجودہ مسلمانوں کی اس فکر سے اتفاق نہیں ۔ اس کتاب میں مسلمانوں کے طرز عمل کو اسلام کے مطابق ثابت کرنے کی کوشش نہیں کی گئی ہے ۔ بلکہ اس میں قرآن وسنت کی روشنی میں مسلمانوں کے طرز عمل کا جائزہ لیا گیا ہے۔ آج سب سے زیادہ ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلمان اپنے آپ کو قرآن وسنت کی روشنی میں جانچیں اور اپنی روش کو قرآن وسنت کے مطابق بنائیں ۔ قرآن وسنت کو چھوڑ کر ہی وہ موجودہ زمانہ میں برباد ہوئے ہیں اور قرآن وسنت کو اختیار کر کے ہی وہ خدا کی نظر میں دوبارہ فلاح کا استحقاق حاصل کر سکتے ہیں۔ وحید الدین

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader