دورِ جدید کی مسلم تحریکیں
Urdu book, p. 89
By Maulana Wahiduddin Khan
موضوع بنا دیا تھا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان کی ساری دل چسپیاں صرف مسلمانوں کی اصلاح کے دائرہ میں محدود ہو کر رہ گئیں۔ موجودہ زمانہ کے مسلمان اپنے دور زوال کو پہنچ کر بالکل بے جان ہو چکے تھے مگر مسلم رہنماؤں کی خوش فہمی نے انہیں برعکس طور پر یہ دکھایا کہ : نہیں ہے نا امید اقبال اپنی کشت ویرال سے ذرا نم ہو تو یہ مٹی بہت زرخیز ہے ساقی مسلمانوں کے بارہ میں اس اندازہ کی غلطی اس واقعہ سے ثابت ہو چکی ہے کہ پچھلے سو برس کے اندر بے شمار اعاظم و اکابر (بشمول اقبال) اس "مٹی" کو نم کرنے کی کوشش کرتے رہے۔ انھوں نے اس کو صرف "ذرا نم" نہیں کیا بلکہ اس کو جل تھل کر دیا۔ مگر مسلمانوں کے اندر سے وہ جاندار گروہ نہ ابھر سکا جو جدید تاریخ میں اسلام کو اس کا واقعی مقام دلانے والا بن سکے۔ حتیٰ کہ خود اقبال کو آخر میں یہ کہنا پڑا : تیرے محیط میں کہیں گوہر ہے زندگی نہیں ڈھونڈ چکا میں موج موج دیکھ چکا صدف صدف دور جدید کے مسلم رہنما اگر رد عمل کی نفسیات میں مبتلا نہ ہوتے تو یقیناً وہ اس راز کو سمجھ لیتے کہ موجودہ زمانہ میں تجدید دین اور احیارِ اسلام کا سب سے بڑا کام یہ ہے کہ اسلام کی دعوت کو غیر مسلم اقوام تک پہنچایا جائے تاکہ ان کی صفوں سے ایسے افراد حاصل ہوں جو نو سلمان جوش کے ساتھ اسلام کی نمائندگی کر سکیں۔ مگر غیر مسلم اقوام میں دعوتی کام کرنے کے لیے ان کے حق میں محبت اور خیر خواہی کا جذبہ درکار تھا اور ہمارے رہنما ر ہنما رد عمل کی نفسیات کے نتیجہ میں پہلے ہی اس کو کھو چکے تھے۔ پھر وہ غیر مسلم اقوام کے درمیان خدا کے دین رحمت کے داعی بن کر اٹھتے تو کیسے اٹھتے ۔ ۳۔ قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جتنے پیغمبر بھیجے ، سب ان کی قوموں کی زبان میں بھیجے (وَمَا اَرْسَلْنَا مِنْ رَسُولٍ إِلَّا بِلِسَانِ قَوْمِهِ) اس آیت سے یہ اصول اخذ ہوتا ہے کہ دعوتی کام کی لازمی شرط یہ ہے کہ وہ مدعو کی اپنی زبان اور اس کے قابل فہم اسلوب میں ہو۔ اس اعتبار سے غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اس زمانہ میں جس طرح دوسری چیزوں میں انقلاب آیا ہے اسی طرح زبان و ادب میں بھی زبردست انقلاب آیا ہے۔ سائنس کے زیر اثر موجودہ زمانہ میں بالکل ایک نیا انداز بیان وجود میں آیا ہے۔ آج کا انسان اسی بات

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader