دورِ جدید کی مسلم تحریکیں
Urdu book, p. 92
By Maulana Wahiduddin Khan
میں تحریر فرمایا کہ طبقات ابن سعد کا ایڈیشن جس مخطوطہ پر مبنی ہے، اس کو میں نے دیکھا اور مطبوعہ ایڈیشن اور مخطوطہ دونوں کا حرفاً حرفاً مقابلہ کیا ہے اور کہیں ایک حرف کا فرق بھی نہیں پایا ہے (ماہنامہ برہان، دہلی جون (۱۹۸۲) اس نفسیات کی بنا پر مسلمانوں کے لیے یہ ممکن نہ ہوسکا کہ وہ جدید اسلوب یا جدید معیار ادب کو سمجھیں جن کو پیدا کرنے والی خود یہی قومیں تھیں۔ جدید قوموں سے نفرت مسلمانوں کے لیے اس میں مانع ہو گئی کہ وہ جدید اسلوب کو سمجھیں اور اس میں مہارت پیدا کر کے لسانی قوم میں اسلامی لٹریچر فراہم کریں ۔ خلاصہ اوپر جو باتیں عرض کی گئیں ، ان کا خلاصہ یہ ہے کہ موجودہ زمانہ میں سب سے بڑا کام یہ ہے کہ مسلمانوں اور دوسری قوموں کے درمیان حریف اور رقیب کا رشتہ ختم کیا جائے اور ان کے درمیان داعی اور مدعو کا رشتہ قائم کیا جائے۔ جس دن ایسا ہو گا کہ مسلمان اپنے آپ کو داعی اور دوسری قوموں کو مدعو سمجھنے لگیں، اسی دن مسلمانوں کے اندر وہ تمام اعلیٰ صفات پیدا ہونا شروع ہو جائیں گی جو موجودہ زمانہ میں اسلام کے احیاء کی جدوجہد کرنے کے لیے ضروری ہیں۔ اس سلسلہ میں یہ بھی جان لینا چاہیے کہ داعی اور مدعو کا رشتہ پر جوش تقریری الفاظ بول دینے کا نام نہیں ہے ۔ یہ موجودہ دنیا میں سب سے بڑی قربانی ہے۔ اس کے لیے ہمیں دوسری قوموں سے اپنی تمام شکایتوں کو یک طرفہ طور پر ختم کر دینا ہو گا۔ اس کے لیے ضروری ہوگا کہ دوسری قوموں سے محبت کی جائے خواہ وہ ہماری دشمن بنی ہوئی ہوں۔ دوسری قوموں کے لیے نیک دعائیں کی جائیں، خواہ وہ ہمارے خلاف سازش کر رہی ہوں۔ دوسری قوموں کو خیر خواہی کا موضوع بنایا جائے خواہ ہمارے نزدیک وہ ہماری بدخواہی میں مشغول ہوں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader