پیش لفظ
Urdu book, p. 29
By Maulana Wahiduddin Khan
قومی آواز (۸ فروری) اور دوسرے اخبارات میں یہ رپورٹ چھپی ہے کہ پاکستان کی سیاست اس وقت بحران میں مبتلا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ پاکستان کی حکومت خلیج کے مسئلہ میں سعودی عرب اور امریکہ کے ساتھ ہے مگر وہاں کے عوام پر جوش طور پر صدام حسین کی حمایت میں اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ اسلامی جمہوری اتحاد کے وزیر اعظم نواز شریف نے ۵ جنوری کو سارے ملک میں یوم کشمیر منایا۔ اس کا مقصد خلیجی مسئلہ سے عوام کی توجہ کو ہٹانا تھا۔ مگر حکومتی سطح پر اس کو کامیاب کرنے کی ساری کوششوں کے باوجود یوم کشمیر کامیاب نہ ہو سکا۔ یہی صورت حال زیادہ بڑے پیمانے پر عرب دنیا کی ہے۔ وہاں واضح طور پر سلمان دو حصوں میں بٹ گئے ہیں۔ خواص کا ایک طبقہ سعودی عرب اور امریکہ کے ساتھ ہے۔ مگر عوام بالکل طوفانی انداز میں صدام حسین کی حمایت کر رہے ہیں۔ یہ صورت حال موجودہ زمانہ کی مسلم قیادت کی ایک بہت بڑی کمزوری کو بتاتی ہے۔ اور وہ ہے: سیاست کو حقیقت پسندانہ بنیاد پر چلانے کے بجائے جذباتی بنیادوں پر چلانا۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد فلسطین کا جو مسئلہ پیدا ہوا وہ بلاشبہ ایک سنگین مسئلہ تھا، اس معاملہ میں صحیح طریقہ یہ تھا کہ قول اور عمل میں تناسب کو برقرار رکھتے ہوئے اپنی مہم چلائی جاتی۔ مگر مسلمانوں کے لکھنے اور بولنے والے لوگوں نے یہ کہا کہ عملی امکانات کو نظر انداز کرتے ہوئے وہ بڑے بڑے الفاظ بولتے رہے۔ پچھلے پچاس برس میں ان کا حال یہ رہا کہ تقریر اور تحریر کے ہر موقع پر قبلہ اول کے معاملہ میں لوگوں کو جذباتیست ہی خوراک دیتے رہے۔ یہاں تک کہ مشرق سے مغرب تک تمام مسلم عوام فلسطین کے مسئلہ میں آخری حد تک جذباتی ہو گئے۔ موجودہ مسلمان اسی قسم کی لفظی جذباتییت پر بنی ہوئی قوم تھے۔ صدام حسین نے اسی کا فائدہ اٹھایا۔ انھوں نے امریکہ اور اس کے اتحادیوں سے کہا کہ تم فلسطین کو یہودیوں سے خالی کراڈ، اس کے بعد ہم بھی کویت سے اپنی فوجیں واپس بلائیں گے“۔ صدام حسین کا یہ بیان محض ایک خوش نما نعرہ تھا، مگر مسلمان، جن کو پہلے ہی نعرہ پسند بنایا جا چکا تھا، وہ عین اپنے مزاج کے تحت اس لفظی نعرہ کی طرف دوڑ پڑے۔ سیاست کا تعمیری طریقہ یہ ہے کہ کسی معاملہ میں عوام کو ضرورت سے زیادہ حساس نہ بنایا جائے۔ جب بھی ایسا کیا جائے گا تو یہی ہو گا کہ عوام سنجیدہ معاملہ کی اہمیت کو نہیں سمجھیں گے اور جس چیز میں انہیں مبالغہ آمیز حساسیت میں مبتلا کیا گیا ہے اس کی طرف ہجوم کر کے دوڑ پڑیں گے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader