پیش لفظ
Urdu book, p. 31
By Maulana Wahiduddin Khan
پاکستان کے وزیر اعظم میاں نواز شریف نے امن مشن کے تحت چرمسلم ملکوں کا دورہ کیا۔ جنوری ۱۹۹۱ کے آخری ہفتہ میں وہ ایران، ترکی، شام، اردن، مصر اور سعودی عرب گئے۔ ہر جگہ وہ حکومت کے سربراہوں سے ملے اور خلیج کی جنگ کو روکنے کے لیے بات چیت کی۔ ہندوستان ٹائیمس (۱۰ فروری) کی ایک خبر سے معلوم ہوا کہ وہ اپنے ’’گلف پیس مشن‘‘کے تحت دوسرے دورہ پر روانہ ہوئے ہیں۔ اس دورہ میں وہ الجیریا، مراکش، تیونس اور لیبیا جائیں گے ۔ اس سلسلہ میں دہ اسلام آباد میں عراقی سفیر اسماعیل حمودی حسین سے بھی کئی بار مل چکے ہیں۔ اردن کے شاہ حسین کے ذریعہ انھوں نے اپنا پیغام صدام حسین تک پہنچانے کی کوشش کی ہے۔ پاکستانی روزنامہ نوائے وقت (۲ فروری ۱۹۹۱) کے صفحہ اول کی ایک خبر میں بتایا گیا ہے کہ مسٹر نواز شریف نے اسلام آباد میں وزیر اعظم سیکرٹریٹ میں ملک کی سیاسی و مذہبی جماعتوں کے قائدین اور دوسرے ممتاز سیاست دانوں سے خلیج کی صورت حال پر گفتگو کی اور اپنے ’’امن مشن‘‘ کی تفصیلات سے انھیں آگاہ کیا۔ وزیر اعظم نواز شریف نے کہا کہ ہم نے صدر صدام حسین سے صرف تین لفظوں کا مطالبہ کیا ہے کہ وہ ایک مرتبہ یہ کہہ دیں کہ آئی ول ڈڈرا (I will withdraw) تو پھر باقی کام آسان ہو جائے گا ۔‘‘ یعنی میں کویت سے اپنی فوج واپس بلالوں گا۔ مسٹر نواز شریف کا یہ بیان صرف ان کی سادہ لوحی کا ثبوت ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ مذکورہ تین لفظ آرائی دل و ڈڈرا کی بات نہیں، بلکہ ایک اور تین لفظ آئی واز را نگ (I was wrong) کی بات ہے۔ اور یہ دوسرا تین لفظ ایسا ہے جس کو کہنے والا آج کی دنیا میں کوئی نہیں، حتیٰ کہ خود پاکستان کے اسلام پسند لیڈر بھی نہیں۔ ’’ میں نے غلطی کی‘‘ کہنا کوئی سادہ سی بات نہیں۔ یہ دراصل اپنے آپ کو رد کرنا ہے۔ یہ خود اپنی زبان سے اپنی نفی کرنے کے ہم معنی ہے۔ یہ جملہ کہنے کے لیے بہت بڑا حوصلہ درکار ہے۔ چونکہ لوگوں میں اتنا بڑا حوصلہ نہیں ہوتا۔ اس لیے وہ اس جملہ کو اپنی زبان سے دہرانے کے لیے بھی تیار نہیں ہوتے۔ آدمی جب ایک بات بول دے یا وہ ایک اقدام کر بیٹھے تو اس کے بعد وہ اس کو اپنے لیے وقار کا مسئلہ بنا لیتا ہے۔ وہ سمجھنے لگتا ہے کہ اگر میں نے اپنے کو غلط کہا یا اپنے اقدام کو واپس لیا تو لوگوں کی نظر میں بے قیمت ہو جاؤں گا۔ یہ اندیشہ اس کو اعتراف سے روک دیتا ہے۔ اپنے خیالی وقار کو بچانے کے لیے وہ اپنے پورے وجود کو اور بعض اوقات پوری قوم کو تباہی کے گڑھے میں گرا دیتا ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader