Urdu book · خلیج ڈائری

پیش لفظ

Urdu book, p. 48

By Maulana Wahiduddin Khan

قومی آواز (۲۴ فروری) میں خلیج کی جنگ کے مابعد اثرات کے بارہ میں ایک جائزہ شائع ہوا ہے۔ اس کا ایک پیرا گراف یہ ہے: نئی دہلی کے ایک سعودی ڈپلومیٹ نے اس نامہ نگار سے گفتگو کے دوران عالمی مسلم رائے عامہ میں تبدیلی پر انتہائی برگستگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جنگ کے خاتمہ پر سعودی عرب دنیا کی مختلف سرکردہ مسلم جماعتوں اور تنظیموں کے متعلق اپنی پالیسی پر نظرثانی کرے گا۔ کیوں کہ یہ تمام جماعتیں اور تنظیمیں سعودی موقف کے حق میں عوامی حمایت حاصل کرنے میں ناکام ثابت ہوئی ہیں (صفحہ۷) سعودی عرب نے تمام دنیا کی مسلم جماعتوں کو غیر معمولی مالی امداد دی۔ مگر خلیج کے بحران کے زمانہ میں تقریباً ہر ملک کے مسلم عوام سعودی عرب کو چھوڑ کر صدام حسین کے حامی بن گئے۔ حالانکہ اس معاملہ میں سعودی عرب کی حیثیت دفاع کرنے والے کی تھی اور صدام حسین کی حیثیت جارح اور ظالم کی۔ اس کی وجہ مسلم رہنماؤں کی جذباتی سیاست ہے۔ ان رہنماؤں کا مفاد اس میں تھا کہ وہ عوام کی بھیڑ جمع کریں تاکہ عرب ملکوں کی نظر میں ان کی یہ حیثیت قائم ہو کہ مسلم عوام ان کے ساتھ ہیں۔ مسلم رہنماؤں کا یہ قيادتی تقاضا انھیں اس طرف لے گیا کہ وہ جذباتی نعروں کا استعمال کریں۔ کیوں کہ عوام کی بھیڑ صرف جذباتی نعروں پر ہی جمع کی جا سکتی تھی۔ چنانچہ انھوں نے فلسطین کے ایشو کو خوب بڑھا چڑھا کر عوام کے سامنے پیش کیا۔ زبان وقلم کی ساری طاقت یہ ثابت کرنے پر لگا دی کہ امریکہ سب سے بڑا اسلام دشمن ہے۔ اس طرح مسلمانوں کے جذبات اسرائیل کے بارہ میں اور امریکہ کے بارہ میں شدت کے ساتھ بھڑک اٹھے۔ وہ اس معاملہ میں آخری حد تک حساس ہو گئے۔ جب انھوں نے دیکھا کہ صدام حسین سب سے بڑے دشمنِ اسلام (امریکہ) کو چیلنج کر رہا ہے۔ وہ ظالم اسرائیل پر اسکڈ میزائل مار رہا ہے۔ اور اسرائیل کے سربرستوں سے کہہ رہا ہے کہ ہوش میں آجاؤ۔ کیوں کہ سلطان صلاح الدین ایوبی دوبارہ زندہ ہو گیا۔۔۔ صدام حسین کے یہ الفاظ مسلمانوں کی موجودہ نفسیات کے اعتبار سے بالکل جادو ثابت ہوئے۔ انھیں دکھائی دیا کہ سعودی عرب اسلام کے دشمن نمبر ایک کا ساتھ دے رہا ہے اور صدام حسین اسلام کے دشمن نمبر ایک کو سمندر میں غرق کرنے کا نعرہ لگا رہا ہے، تو وہ اپنی مذکورہ نفسیات کی بنا پر سعودی عرب کو چھوڑ کر صدام حسین کی طرف دوڑ پڑے___ کسی مسئلہ پر قوم کو غیر متناسب حد تک حساس بنانا شخصی قیادت کے لئے بہت کارآمد ہے۔ مگر خود قوم کے لئے وہ تباہ کن حد تک غیر مفید ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page