Urdu book · خاندانی زندگی

باہمی اعتماد

Urdu book, p. 19

By Maulana Wahiduddin Khan

اعتماد کا یہ اصول شوہر اور بیوی کے درمیان انتہائی حد تک ضروری ہے۔ اس کے بغیر کوئی گھر اچھا گھر نہیں بن سکتا۔ شوہر اور بیوی کے درمیان کیوں ایسا ہوتا ہے کہ عام طور پر مطلوب قسم کا باہمی اعتماد پیدا نہیں ہوتا، دونوں کے درمیان اجنبیت کی ایک غیر محسوس دیوار مسلسل طور پر باقی رہتی ہے۔ اس نا مطلوب صورتِ حال کی ذمے داری عورت اور مرد دونوں کے او پر یکساں طور پر عائد ہوتی ہے۔ عورت کی غلطی یہ ہے کہ وہ نکاح کے بعد اپنے ذہن کو نئے حالات کے مطابق نہیں بناپاتی۔ وہ بدستور اپنے میکے کو اپنا گھر سمجھتی رہتی ہے۔ اس کا اظہار بار بار اس کے رویے سے ہوتا رہتا ہے۔ مثلاً جب وہ اپنے میکے کا ذکر کرے گی تو وہ اس طرح کہے گی کہ میرے گھر میں ایسا تھا، یا میرے گھر میں ایسا ہوتا ہے۔ یہ چیز فطری طور پر مرد کو نا گوار ہوتی ہے۔ وہ شعوری یا غیر شعوری طور پر محسوس کرتا ہے کہ اُس کے اور اس کی بیوی کے درمیان ایک قسم کی غیریت موجود ہے، جو کسی طرح ختم نہیں ہوتی۔ دوسری طرف مرد کے اندر عام طور پر ایک کم زوری ہوتی ہے، جو مطلوب نوعیت کے باہمی اعتماد میں مسلسل طور پر رکاوٹ بنی رہتی ہے۔ وہ یہ کہ ہر مرد کے ذہن میں ایک مفروضہ عورت کا تصور بسا ہوا ہوتا ہے، یہ مفروضہ تصور مرد کے ذہن میں مسلسل طور پر بسا ہوا ہوتا ہے۔ اس بنا پر وہ اپنی موجود بیو ی کے ساتھ مطلوب قسم کا باہمی اعتماد قائم نہیں کر پاتا۔ شوہر اور بیوی کے درمیان باہمی اعتماد قائم کرنے کے لیے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page