Urdu book · خاندانی زندگی

گھر: بہتر انسان بنانے کا کارخانہ

Urdu book, p. 34

By Maulana Wahiduddin Khan

مثلاً عام ذہن یہ ہے کہ جو آدمی دولت مند گھر میں پیدا ہو، اُس کو خوش قسمت سمجھا جاتا ہے۔ اور جو آدمی غریب گھر میں پیدا ہو، اس کو بدقسمت انسان کہا جاتا ہے۔ یہاں ماں کا رول یہ ہے کہ اگر اس کا بچہ غریب گھر میں پیدا ہوا ہے تو وہ اس کو بتائے کہ غریب ہونا کوئی محرومی کی بات نہیں۔ ایسی ماں کو چاہیے کہ وہ اپنے بچے کو زندگی کا یہ فلسفہ بتائے کہ دولت مند بچے کے پاس اگر دولت ہوتی ہے تو غریب بچے کے پاس ایک اور زیادہ بڑی دولت موجود ہے، اور وہ ہے بڑا ہوا محرک (incentive)۔ یہ محرک اُس کی زندگی کی طاقت بن کر اس کا ساتھ دیتا ہے: If a rich person is born with a silver spoon in his mouth, the poor person is born with an incentive spoon in his mouth. ماں کو چاہیے کہ وہ اپنے بچے کو بتائے کہ ہر امیر بچے کے باپ اور دادا غریب ہی تھے، پھر وہ محنت کر کے امیر بنے۔ اسی طرح تم بھی محنت کر کے سب کچھ حاصل کر سکتے ہو۔ اسی طرح ایک اور فکری گمراہی ہے۔ ماں کو چاہیے کہ اس گمراہی سے وہ اپنے بچے کو باہر نکالے۔ وہ یہ کہ عام طور پر انسانی طبقات کو محروم اور غیر محروم (Haves and have nots) میں تقسیم کیا جاتا ہے، مگر یہ ایک غلط ڈائیکاٹمی (wrong dichotomy) ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ بچپن میں ایک شخص محروم طبقے کا فرد ہوتا ہے، لیکن بعد میں وہ ایک غیر محروم طبقے کا فرد بن جاتا ہے۔ مثلاً سی وی رمن، جی ڈی برلا، آبرائے، دھیرو

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page