Urdu book · خاتونِ اسلام

ہندوستان کا تجربہ

Urdu book, p. 300

By Maulana Wahiduddin Khan

ہندوستان کا تجربہ طلاق کو مشکل بنانے کا دوسرا تجربہ وہ ہے جو ہندوستان میں پیش آیا۔ ہندوستان کے قدیم مصلحین نے بظاہر عورت کے تحفظ کے لیے مذہبی طور پر طلاق کو ممنوع قرار دے دیا۔ مزید یہ کہ عورت کے اندر طلاق کا رجحان روکنے کے لیے انھوں نے یہ کیا کہ طلاق کے بعد عورت کے لیے نکاح ثانی کا راستہ تمام تر بند کر دیا۔ اس سلسلہ میں انھوں نے جو قوانین بنائے اس کا مطلب یہ تھا کہ ایک بار جب شادی ہو جائے تو اس کے بعد نہ مرد اسے طلاق دے سکتا ہے اور نہ عورت کے لیے ممکن ہے کہ وہ پہلے شوہر سے جدائی کے بعد دوسرا نکاح کر سکے۔ مگر یہ اصلاح غیر فطری تھی چنانچہ ہندو سماج کو اس کی بہت مہنگی قیمت دینی پڑی۔ عورت اور مرد اگر نکاح کے بعد ایک دوسرے کو مطمئن نہ کر سکے تو ان کی ساری زندگی بد ترین تلخی میں گزرتی تھی۔ کیوں کہ نہ مرد کے لیے ممکن تھا کہ وہ اپنی بیوی کو طلاق دے دے اور نہ عورت کے لیے یہ ممکن تھا کہ وہ اپنے پہلے شوہر سے جدا ہو کر اپنا دوسرا نکاح کر سکے۔ اس کے لیے صرف یہ ممکن تھا کہ ساری عمر ایک غیر مطلوب مرد کے ساتھ پُر ازیت زندگی گزارتی رہے اور اگر اس کا شوہر درمیان میں مر جائے تو اپنے آپ کو جلا کر ستی ہو جائے۔ موجودہ زمانہ میں اس مسئلہ نے نئی شکل اختیار کی ہے۔ قانونی طور پر اگرچہ علاحدگی یا نکاح ثانی کو جائز کر دیا گیا ہے مگر ہندو سماج عملاً آج بھی انھیں روایات پر چل رہا ہے جو ہزاروں برس سے اس کے درمیان بنی ہیں۔ چنانچہ ہندو عورتوں کے بارے میں کثرت سے اطلاعات مل رہی ہیں کہ وہ شوہروں سے ناموافقت کی بنا پر خود کشی کر لیتی ہیں۔ اس کا سبب مذکورہ بالا مسئلہ ہے۔ یہ عورتیں جانتی ہیں کہ اولاً تو شوہروں سے علاحدگی مشکل ہے اور اگر کسی طرح علاحدگی ہو جائے تو دوسرا نکاح اس سے بھی زیادہ مشکل۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page