ظاہر فریبی
Urdu book, p. 15
By Maulana Wahiduddin Khan
ظاہر فربی ائیر مارشل عبد اللطیف ہوائی جہاز چلانے کا چالیس سالہ تجربہ رکھتے ہیں۔ ۲۵ اگست ۱۹۸۱ کو انھوں نے روسی ساخت کا آواز سے تیز چلنے والا لڑاکا جہاز مگ ۲۵ آزمائشی طور پر اڑایا۔ آدھ گھنٹہ تک پرواز کرنے کے بعد انھوں نے جہاز کو نیچے اتارا۔ ائیر مارشل جب ہوائی جہاز سے باہر آئے تو انھوں نے اپنے تاثرات بیان کرتے ہوئے کہا: The flight made even the Himalayas look small ہماری پرواز کے سامنے ہمالیہ پہاڑ بھی چھوٹا دکھائی دیتا تھا (ٹائمز آف انڈیا ۲۶ اگست ۱۹۸۱) آواز سے تیز رفتار جہاز ہمالیہ کے اوپر اڑائیں پھر رہا ہو تو اس وقت جہاز کے اوپر بیٹھے ہوئے آدمی کو ہمالیہ واقعی حقیر دکھائی دیتا ہے، اور اپنی عظمت کا ایک عجیب احساس پیدا کرتا ہے مگر یہ غلط فہمی اس وقت ختم ہو جاتی ہے جب کہ جہاز ہمالیہ کی کسی چوٹی سے ٹکرا جائے۔ چٹان کے معمولی ٹکڑا سے بھی فی الفور جہاز میں آگ لگ جاتی ہے اور اچانک جہاز اور اس کا مسافر دونوں اس طرح راکھ کا ڈھیر بن جاتے ہیں جیسے کہ ان کی کوئی حقیقت ہی نہ تھی۔ موجودہ دنیا میں کسی کو کوئی بڑائی ملتی ہے تو وہ بہت جلد غلط فہمی میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ حالاں کہ دنیا کی ہر بڑائی ایسی ہی ہے جیسے تیز رفتار ہوائی جہاز کے اوپر سے کسی آدمی کا پہاڑ کو دیکھنا۔ ایسے مسافر کو بظاہر اپنی سواری عظیم معلوم ہوتی ہے۔ مگر یہ ایک خیالی فریب کے سوا اور کچھ نہیں۔ حالات کا معمولی فرق بھی اس کو یہ بتانے کے لئے کافی ہو جاتا ہے کہ اس کی کوئی حقیقت نہ تھی۔ دنیا میں کسی چیز کو پانے کے لئے جن بے شمار اسباب کی موافقت ضروری ہے ان کی فراہی کسی انسان کے بس کی بات نہیں۔ یہ صرف خدا ہے جو تمام موافق اسباب کو یکجا کر کے کسی واقعہ کو ظہور میں لاتا ہے۔ تاہم اس سارے معاملہ پر ظاہری اسباب کا پردہ ڈال دیا گیا ہے۔ آدمی سے یہ مطلوب ہے کہ وہ حقیقت پسندی کا طریقہ اختیار کرتے ہوئے خدا کی خدائی اور اس کے مقابلہ میں اپنی بندگی کا اعتراف کرلے۔ وہ بظاہر اپنی کوششوں سے پائے مگر اس کو خدا کی طرف سے آیا ہوا سمجھے۔ وہ بظاہر بڑا بنا ہوا ہو مگر اپنے کو چھوٹا یقین کرے۔ وہ بظاہر بلندی پر اڑ رہا ہو مگر اپنے کو پستی میں اترا ہوا محسوس کرے ۔ آدمی کا امتحان یہ ہے کہ وہ ظاہری فریب سے گزر کر اصل حقیقت کو پالے، یہاں کی ہر بڑائی کو چھوٹی بڑائی سمجھے۔ مگر بہت کم لوگ ہیں جو اس فریب کا پردہ پھاڑنے میں کامیاب ہوتے ہوں ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader